’بچوں کی چیخیں اب بھی آ رہی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے میں بری طرح تباہ ہوجانے والے شہر بالاکوٹ میں ایک سکول میں پھنسے ہوئے بچوں کی آوازیں ابھی تک سنائی دے رہی ہیں۔ وہاں لوگوں نے مجھے یہ بتایا:
میں ابھی یہاں پہنچی ہوں۔ یہ ایک سکول ہے، اس میں بچے ابھی تک زندہ ہیں۔ لیکن یہ آرمی ہماری اب تک نہیں پہنچی۔ ابھی یہ لوگ انہیں نکال رہے ہیں بچوں کو اور زندہ بچوں کو نکال رہے ہیں۔ اگر کسی دوسرے ملک کی آرمی ہوتی تو کل پہنچ جاتی۔ تب کتنا اچھا ہوتا۔ تین سو بچے اس سکول میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آرمی کے جو ہیلی کاپٹر آ رہے ہیں یہ کچھ نہیں کر رہے۔ بس چیزیں پھینک پھینک کر جا رہے ہیں اور لوگوں کو اپنے پیچھے بھگا رہے ہیں۔ میں تو کہتی ہوں کہ ان کو یہاں سے ایسے بھگا دینا چاہیے کہ انہیں پتہ چلے۔ کل کیوں نہیں پہنچی یہ آرمی؟ یہ ہماری حکومت کمزور ہے۔
آرمی والے یہاں سے گزر گئے۔ ہم نے ان کو بہت آوازیں دیں مگر انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ ان سے مدد کرنے کو کہا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا کام اُدھر ہے اِدھر نہیں۔ دو سو بچے ابھی بھی زندہ پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں لیکن آرمی نے اتنی امداد نہیں کی ہے۔ یہ آرمی والے آتے ہیں اور چلے جاتےہیں۔ ان سے پوچھیں کہ یہ یہاں رکتے کیوں نہیں ہیں؟ یہ جا کہاں رہے ہیں؟
اس وقت اندر تین سو بچے پھنسے ہوئے ہیں۔ میں اسی سکول میں اسلامیات اور کراٹے پڑھاتا ہوں۔ جب زلزلہ آیا اس سے پانچ منٹ پہلے میرے پیٹ میں تکلیف ہوئی تو میں گھر چلا گیا۔ گھر گیا تو میں ٹھیک ہو گیا۔ اللہ نے مجھے بچانا تھا۔
سید عدنان علی نقوی، کراچی، پاکستان میرے ایک بھائی پاکستان فضائیہ کے سید علی نہاد نقوی اپنے ایک دوست کے والد کے انتقال پر بالاکوٹ گئے تھے اور وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ میری ایک بہن مارگلہ کے حادثے میں ختم ہو گئیں۔ اس سب کے باوجود اللہ نے ہمیں صبر عطا کیا کیونکہ وہاں جا کر یہ احساس ہوا کہ ہمارے غم تو کچھ بھی نہیں جو چھوٹے چھوٹے بچوں اور دوسروں کے ہیں۔ وہاں ایسا لگتا تھا جیسے کہ سچ میں کوئی قیمات ہی آگئی۔ میری تمام پاکستانی بھائیوں سے اپیل ہے وہ وہ جس طرح سے بھی مدد کر سکیں، مالی، جانی، یا طبی، وہ ضرور کریں۔ وہاں کے حالات بہت خراب ہیں، کچھ بھی کریں اور ان سب لوگوں کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔ محمد ابرار احمد، بارسلونا، سپین کہاں گئیں صدرِ پاکستان کی امریکہ کے لیے وفا داریاں اور آج کہاں ہے وہ امریکہ اور اس کی امداد؟ تیسرا دن ہے اور بالاکوٹ کے اس سکول سے بچوں کی آوازیں آرہی ہیں کہ کوئی ہماری جان بچائے۔ جتنی جلدی ہو سکے ان بچوں، بوڑھوں اور زخمیوں کو امداد پہنچانا ضروری ہے۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد ان علاقوں تک فوج اور امداد بھیجیں ۔اور میری عالمی برادری سے درخواست ہے کہ مزید ہیلی کاپٹروں کا انتظام کرے۔ ساجد، بہاولپور، پاکستان میرے خیال میں حکومت اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہےاور جہاں تک امداد پہنچانے کا مسئلہ ہے تو بہت ساری سڑکیں مٹی کے تودے گرنے سے بند ہیں۔ فوج کے جوان متاثرہ علاقوں تک خالی ہاتھ پہنچ کر کیا کر سکیں گے؟ مجھے لوگوں کی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے پیاروں کی لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور ان کو نکالنے کی بر وقت کارروائی ہونے چاہیے لیکن فوج کی مجبوری یہ ہے کہ اس کو وہاں جانے کے لیے رستہ تو ملے۔ فوج کا یہ عالم ہے کہ ہمارے شہر کے ایک کرنل صاحب کی بیسی بچے ہلاک ہوگئے ہیں ، ان کی لاشیں یہاں آگئی ہیں لیکن کرنل صاحب اپنی ڈیوٹی پر ہیں۔ فوج اس سے زیادہ لوگوں کے لیے کیا کرے؟ یہ ایک آسمانی آفت ہےہمیں اس میں صبر اور حوصلے سے کام لینا چاہیے۔ ہمیں حکومت کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دے۔ طاہر عباس، بہاولپور، پاکستان پاکستان میں میں فوج نے ملک کے سارے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن ہماری ضرورت کے وقت میں فوج کہاں ہے؟ مشرف اور فوج اپنے محلوں میں سو رہے ہیں جان مہمند، پاکستان: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||