BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا عالمی برادری وقت پر کام آئی؟

پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنیوالے زلزلے سے کشمیر اور سرحد میں لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے۔ کئی ممالک نے اس موقع پر امداد کا اعلان کیا۔ عالمی اداروں سمیت بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکہ اور یورپی یونین، امداد کے اعلانات کے لئے اخباروں کی سرخیوں میں رہے ہیں۔ لیکن جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کے مطابق کیا آپ کو لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے مناسب اقدام کیا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ امداد ضرورت کے حساب سے مل رہی ہے؟ زلزلے سے متاثرین کی مدد کس نے کی؟ یا کیا آپ کو لگتا ہے کہ دو ہفتے گزرنے کے بعد بین الاقوامی برادری متاثرین کو بھول رہی ہے؟

ان سوالوں پر اپنا ردعمل لکھیں۔ ساتھ ہی اگر متاثرین کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع مل رہی ہے تو ہمیں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھیں۔ ہم آپ کی تفصیلی رپورٹ شائع کرنا چاہتے ہیں۔

آپ کی رپورٹ

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200



راجہ غلام مصطفٰے، ڈڈیال، آزاد کشمیر:
یہاں پر کوئی امداد نہیں آ رہی ہے۔ صرف پرائیویٹ این جی اوز ہیں، آرمی تو محض نعرے لگا رہی ہے۔ پرویز مشرف نے یہ اعلان کیا کہ موبائل فون کمپنیاں کاروبار شروع کر سکتی ہیں لیکن ایس سی او، جو کہ فوج کا ذیلی ادارہ ہے وہ اجازت نہیں دے رہا۔کیا ظلم ہے کہ ہم اپنوں سے رابطہ بھی نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ جو امداد ضلع میر پور سے گئی اس کے بارے میں ٹیلی ویژن نے کوئی خبر نہیں دی اور صرف پاکستانی فوج کے جھوٹے دعوے دکھا رہے ہیں۔

حیات بنگش، پشاور:
میں کہنا چاہوں گا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مسلسل علاقے کی دوبارہ تعمیر کی بات کرتا رہے۔ گذشتہ ساٹھ سال سے حکومت نے ان علاقوں میں سڑکیں نہیں بنائیں اب وہ لوگوں کیوحالی کا کام کیسے کرے گی۔ ہمارے لیڈروں میں مدد کرنے کا جذبہ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ پہلے اپنے پیٹ بھریں گے۔

شیراز عباسی، مظفر آباد:
میرا خیال ہے یہاں پر آرمی اور سول انتظامیہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے کام کر رہے ہیں۔ مظفر آباد شہر میں تو لوگوں کو سب کچھ مل رہا ہے لیکن دور دراز علاقوں کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔

سعید الرحمٰن، چشتیاں:
آخر حکومت والے مرنے والوں کی صحیح تعداد کیوں چھپا رہے ہیں؟ محتاط اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ پاکستانی عوام نے سن پینسٹھ والے جذبے کی یاد تازہ کر دی ہے۔امداد مستحق لوگوں تک ضرور پہنچے گی مگر خدشہ ہے کہ تھوڑی تھوڑی پہنچے گی۔تاہم چیک اینڈ بیلنس بہت ضروری ہے۔

فاروق مسن، لاہور:
آج آنے والی خبریں نہایت پریشان کرنے والی ہیں۔ کئی ایک سنگدل لوگ امداد اپنے گھروں میں جمع کر رہے ہیں۔ میں نے خود ٹی وی پر سنا ہے کہ ہسپتال والے اور مقامی کونسلر یتیم بچوں کو پچاس پچاس ہزار روپے میں بیچ رہے ہیں۔ یہ بچے طوائفیں اور بھکاری بنانے والے مافیا کے ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں۔ فوج اور حکومت کیا کر رہی ہے اس کو روکنے کے لیے؟ بچوں کا یہ لین دین اسلام آباد اور اس کے ارد گرد ہو رہا ہے۔ آخر حکومتیں سڑکیں کیوں نہیں بند کر سکتی جہاں سے یہ بچے لے جا رہے ہیں؟ اس قسم کی حرکت کرنے والے کو جگہ پر گولی مار دینے کے آرڈر ہونے چاہئیں۔ صدر اور وزیر اعظم کیا کر رہے ہیں اسے روکنے کے لیے؟

جاوید بٹ، مظفر آباد:
آزاد کشمیر حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اسے استعفٰی دے دینا چاہیے۔

نصراللہ خان، مانچسٹر، برطانیہ:
دنیا اتنی مدد نہیں کر رہی کیونکہ متاثرہ عکاقوں میں کوئی فائیو سٹار ہوٹل اور خوبصورت ساحل سمندر نہیں ہے۔ انہیں اس علاقے کی تعمیر نو سے کیا لگے۔

محمد ابرار اعوان، نوشہرہ:
اس وقت پاکستان میں جو ہوا ہے اور لوگ جس مشکل میں ہیں ان کی مدد کرنا چاہیے نہ کہ ایحک دوسرے پر تنقید۔ باقی رہی حکومت تو سب جانتے ہیں کہ ہماری حکومت ہے ہی ایسی۔

رضوان انور ہاشمی، فیصل آباد:
میں صدر مشرف سے بالکل اتفاق نہیں کرتا کیونکہ زیادہ تر ممالک اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے پاس ہماری مدد کرنے کی اسطتاعت نہیں۔

واجد سعید خٹک، کرک:
زلزلے کا پہلے سے پتا نہیں لگایا جا سکتا اور اس وقت کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ متاثرین کی مدد کی جائے۔

تہمینہ، لاہور:
گورنمنٹ کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں سے سب لوگوں کو صرف موسم سرما کے لیے نکال کر پنجا یا سندھ میں بسائے تا کہ یہ لوگ سردی اور بھوک کا کسی حد تک مقابلہ کر سکیں۔ اس دوران حکومت چاہے تو وہاں سڑلیں کھول لے یا تعمیر نو کا شوق پورا کر لے۔ اس میں کوئی مشکل نہیں آحر ہم نے تیس لاکھ افغان بھی اسی ملک میں بسائے تھے۔

محمد شاہد، ٹوکیو، جاپان:
میرا خیال ہے حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے مناسب ہے حالانکہ ہم پاکستانی سوائے تنقید کے اور کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ سب یہ واویلا تو مچا رہے ہیں کہ امداد نہیں پہنچی لیکن یہ کوئی بھی نہیں سوچتا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کسی بھی حالت میں اپنے دفاع کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

جتنا بڑا سانحہ ہوا ہے اس کو نمٹانے میں وقت تو لگے گا۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ سانحہ حکومت نہیں لے کر آئی۔ آج فوج نے پچاس افراد کو گرفتار کیا ہے جو امداد کے بہانے متاثرہ علاقے سے لڑکیوں کو لے جا رہے تھے۔ میرے بھائیوں دنیا کے مشکل ترین راستوں کے ذریعے امداد پہنچانے میں وقت تو لگے گا ناں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ بی بی سی بھی پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے ترجمان کا کام کر رہی ہے۔

شہوار اکبر، لاہور:
امداد حوصلہ افزا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے اس مشکل وقت میں پاکستان کی بہت مدد کی ہے۔ اگرچہ یہ امداد ضرورت سے مطابقت نہیں رکھتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر یہ لوگ ہماری مدد نہ کرتے تو شمالی علاقے تو کیا مارگلہ ٹاور سے بھی لاشیں اور زندہ افراد نہ نکالے جا سکتے۔ زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ جو امداد مل رہی ہے اسکو ایمانداری کے ساتھ مسحق کوگوں تک پہنچایا جائے۔

توحید احمد رانا، ازمیر، ترکی:
جس طرح ترکی کی حکومت، این جی اوز اور عوام نے زلزلے کے متاثرین کی مدد کی وہ قابل ستائش ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کی گھریلو خواتین نے بھی اپنی سونے کی چوڑیاں تک امداد کے لیے پاکستان بھجوا دیں۔ جہاں تک عالمی برادری کا سوال ہے،وہ تو اس قسم کی آفتوں پر ہمیشہ کی طرح زبانی خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتی۔

کبیر احمد بانڈے، جینٹ، بلجیم:
عالمی برادری تو برابر مدد کر رہی ہے لیکن پاکستان گورنمنٹ ہمیشہ کی کشمیر کے نام پر اپنا گھر بنا رہی ہے۔ پاکستانی قوم نے جس طرح دن رات لٹے ہوئے کشمیریوں کی مدد کی اور کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے۔ دنیا نے دیک لیا ہے کہ پاکستانی قوم میں انسانیت کا کتنا جذبہ ہے لوگوں نے اپنے گھروں کا سامان بے یار و مددگار کشمیریوں تک پہنچایا۔

عالمی برادری نے بھی کافی مدد کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مدد ان لوگوں پر لگ رہی ہے جن کے لیے دی گئی ہے؟ نہیں جناب اس سے تو پاکستان کی نوکر شاہی کا سندر مستقبل بن رہا ہے۔ میڈیا میں بھی وہی جگہیں دکھائی جا رہی ہیں جہاں کوئی جنرل جاتا ہے اور ایک بچے کو اٹھا کر پیار کرتا ہے۔ جوں ہی کیمرے والا کیمرہ گھماتا ہے جنرل بچے کو دور پھینک دیتا ہے۔

عامر سعید، اسلام آباد:
میرا خیال ہے پاکستان کو ملنے والی تمام امداد، خاص طور پر کمبل اور خیمے پاکستان کی فوج اپنے لیے جمع کر رہی ہے۔ کئی این جی اوز اور دوسرے ذرائع کے مطابق فوج زیادہ سے زیادہ سامان اپنے لیے رکھ رہی اور متاثرین کو اشیاء نہیں دے رہی۔

میں باغ کے علاقے میں پانچ دن رہا اور میں نے دیکھا کہ صرف این جی اوز اور ذاتی سطح پر تقسیم کی جانے والی امداد لوگوں میں تقسیم ہو رہی ہے جبکہ بیرون ممالک سے آنے والی امداد فوج جمع کر رہی ہے۔اگر میں غلط ہوں تو کشمیر اور دوسرے متاثرہ علاقوں کے لوگ جہاں پانچ دن سے سڑکیں کھل چکی ہیں ابھی تک خیمے نہ ملنے کی شکایت کیں کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہماری انتظامیہ اور فوج مکمل طور پر کرپٹ ہیں۔

سید صابرحسین کاظمی، ہری پور:
پاکستان کی تاریخ کے اتنے مشکل دور میں پاکستان کی حکومت نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سپاہی سے لے کر جنرل تک اپنی پوری کو شش کر رہے ہیں۔ اس پر بھی لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں رہی۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ کی رپورٹ
زلزلے کے متاثرین کن حالات میں رہ رہے ہیں؟
66زلزلہ : آپ کی رائے
کیا دنیا کو تباہی کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
66آپ کی رائے
کیا زلزلے کے بعد بدنظمی معاشرے کی عکاس نہیں؟
66آپ کی رپورٹ
زلزلے سے متاثر آپ کے دوست و اقارب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد