آٹھ اکتوبر کو آنیوالے زلزلے میں لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے ہیں، ہزاروں کو زخمی حالات میں ہسپتالوں میں پہنچایا گیا، لاکھوں بےگھر لوگوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور بعض مقامات پر عارضی خیموں میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو کسی ایسے خاندان کو نہ جانتا ہو جو اس زلزلے سے متاثر ہوا۔ کیا آپ کے دوست یا رشتہ دار اس زلزلے سے متاثر ہوئے؟ اگر ہاں تو ہمیں ان کا نام اور پتہ لکھئے اور تفصیل سے یہ بتائیں کہ وہ زلزلے کے دو ہفتے گزر جانے کے بعد کہاں ہیں، کیسے رہے ہیں، ان کی زندگی کن حالات میں گزر رہی ہے، ان کی مدد کو کون آیا؟ آپ اپنے دوست اور ان کے خاندان والوں کے نام سے پیغام بھیج سکتے ہیں۔ آپ تفصیل سے لکھیں۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
انجم ملک، جرمنی: کشمیری عوام پر جو آفت آنا تھی وہ تو آگئی۔ اب چوروں، سیاسی اچکوں، فراڈ فلاحی تنظیموں کی چاندی ہورہی ہے۔ امداد تو راستے سے ہی اڑا لی جاتی ہے۔ خدا را اگر ایدھی ٹرسٹ والوں کو امداد بانٹنے میں مددگار بنایا جائے تاکہ ضرورت مندوں کو بھی کچھ مل سکے۔ کرن احمد، واٹرلو، کینیڈا: میں کچھ فیملیز کو جانتی ہوں بالاکوٹ اور مظفرآباد میں کافی دن تک میرا ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اب ہوا ہے تو پتہ چلا کہ کافی دن بعد ان کو مدد ملی ہے۔ اب تک بےچارے زلزلے سے بچ گئے تو لوٹ مار کے ہاتھوں آگئے۔ ہر کوئی اپنی راگ الاپ رہا ہے کہ میں نے یہ کر دیا وہ کردیا اور حقیقت سے بڑھ کر شو آف کررہے ہیں۔ میری انفارمیشن کے مطابق اب تک کو بہترین کارکردگی کرنے والے ہیومنیٹی فرسٹ کی ٹیم ہے جنہوں نے پاکستانی اور انسانیت کا صحیح حق ادا کیا ہے۔ جاوید ایوبی کشمیری، بیجنگ: میرا تعلق پکستانی آکوپائڈ کشمیر کے ضلع باغ گاؤں ڈھیررے سے ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کا کوئی دوست یا رشتہ دار زلزلے سے متاثر ہوا ہے؟ میں تو اتنا ہی کہوں گا کہ زلزلے نے میرا ’باغ‘ ہی اجاڑ دیا ہے اور مجھ سے میرے لاکھوں کشمیری دوست، بھائی، بہنوں، باپ اور بچے چھین لیے ہیں۔ اور جو بچ گئی ہیں انہیں وہ بےبسی اور بےسروسامانی کے ساتھ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس سے بھی فون پر رابطہ ہوتا ہے تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ سب کسم پرسی کی حالت میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، لوگ سردی سے کانپ رہے ہیں اور رات بھر سردی کی وجہ سے چیختے رہتے ہیں۔ لوگوں کے پاس ابھی تک رہنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ عالمی امداد میں جو خیمے علاقے میں پہنچے بھی ہیں وہ پاکستان آرمی نے اپنے لیے لے لیے ہیں۔ اسی طرح نیو بلینکٹ (کمبل) بھی آرمی والوں نے اپنے لیے رکھ کر اپنے پرانے بوسیدہ بلینکٹ لوگوں کو دے دیے ہیں جو سب پھٹے پرانے ہیں اور استعمال کے قابل بھی نہیں ہیں۔ کشمیر کے نام پر ملنے والی ساری امداد کو پاکستان آرمی اور بیوروکریسی نے مالِ غنیمت سمجھ کر ہڑپ کرنا شروع کردیا ہے اور متاثرہ لوگ تیزی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ میری تمام عالمی اداروں سے اپیل ہے کہ وہ کشمیر میں براہ راست امداد پہنچائیں تاکہ ابھی تک زندہ بچ جانے والوں کی جان بچائی جاسکے۔ پاکستان آکوپائیڈ کشمیر کی کٹھ پتلی گورنمنٹ کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے، بجائے لوگوں کی مدد کرنے کہ حکومتی اہلکار امدادی سامان لوٹنے میں مصروف رہے اور اب انڈین آکوپائڈ کشمیر کے متاثرین کے لئے امداد جمع کرنے کا ایک نیا ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں کو شرم سے ڈوب کر مرنا چاہئے۔ خاور کبیر احمد بندے، بیلجیئم: میرا تعلق راولاکوٹ کے گاؤں ڈریک سے ہے، جہاں ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں پہنچی۔ اس علاقے کے مکین کھلے آسمان تلے بغیر ٹینٹ کے رہ رہے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے، اب برف پڑنے والی ہے۔ نہ صرف اس علاقے میں بلکہ راولاکوٹ کے قرب و جوار میں کہیں بھی گورنمنٹ کی طرف سے امداد نہیں پہنچی۔ ٹوٹل علاقے میں شاید پانچ یا چھ ٹینٹ لگے ہیں، باقی لوگوں کو کچھ بھی نہیں ملا۔ اب وہاں کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ جو مرگئے وہ ہم سے بہتر تھے، چونکہ ان حالات میں جینا دوبھر ہوگیا ہے، راولاکوٹ کے نزدیک پوکھیر، سنگولا، علیسوجال، اور کئی دوسرے دیہاتوں میں شاید ابھی تک کوئی کارندہ نہیں پہنچا، اور اب لاشیں جنگلی جانوروں کی خوراک بن رہی ہیں۔ سجاد حسین، بینگ کاک: میں جندالہ کا رہنے والا ہوں جو راولاکوٹ سے مشرق میں اٹھارہ کلومیٹر پر واقع ہے۔ میں نے کل اپنے گھر فون کیا اور میری ماں اور والد رورہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ آسمانے کے نیچے سردی میں سورہے ہیں۔ میں دنیا سے اپیل کروں گا کہ کشمیریوں کی مدد کریں۔ جاوید سوراتھیا، شیکاگو: میرے کچھ اسکول ٹائم کے دوست تھے، مظفرآْباد سے ان کا تعلق تھا: سہیل خضدار، ان کے والد اے جے کے کی یونیورسٹی کے زولوجی کے شعبے کے ہیڈ تھے، عبید حسن قریشی، اور یاور حفیظ، ان کے والد کمشنر ہوا کرتے تھے۔ مانسہرہ میں ایک دوست ہوا کرتے تھے، شعیب زرداد، یہ تمام لوگ میرے سکول ایبٹ آباد پبلِک اسکول سے تعلق رکھتے تھے، کوئی بھی اے پی ایس کا اسٹوڈنٹ جو کہ انیس سو نواسی اور انیس سو ترانوے کے اسٹوڈنٹس کا ان لوگوں سے تعلق ہو تو پلیز مجھ سے میرا ای میل ہو: sorrathia@hotmail.com اسد عزیز، شارجہ: میں کوٹلی کا رہنے والا ہوں، میری ایک ریلیٹِو فیملی مظفرآباد میں رہتی ہے۔ آج پندرہ دن ہوگئے ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ میرے انکل کا نام اورنگزیب۔ ان کے بیٹے کا نام راجہ شعیب جو اے جے کی پولیس میں اے ایس آئی ہیں۔ ان کے گھر کا نمبر کوئی نہیں اٹھاتا۔ اگر کسی کو کچھ بھی معلوم ہو تو پلیز مجھے انفورم کریں۔ میرا ای میل ہے: azadanjum188@hotmail.com جاوید اقبال ملک، چکوال: آٹھ اکتوبر کو آنیوالے والی آسمانی آفت میں شہید ہونے والے تمام میرا قیمتی اثاثہ تھے، میرا دل ان تمام کے لئے انتہائی دکھی اور غمزدہ ہے، میں ہر وقت ان کے لئے دعاگوں ہوں اور جو بچ گئے ہیں ان کو اللہ اپنے امن و امان میں رکھے۔ عبدالمتین امن، حیات آباد: میں افغانستان سے تعلق رکھتا ہوں، میرا نام عبدالمتین امن ہے۔ میں اپنے پڑوسیوں کے لئے دکھ محسوس کرتا ہوں جو پچیس سالوں سے ہماری مدد کرتے رہے ہیں، میرے پاس اپنے احساس لکھنے کے لئے الفاظ نہیں۔ ہمیں ایک انسان کی حیثیت سے ہمیں ان کی مدد کرنی ہے کیوں کہ انہوں نے مشکل حالات میں ہماری مدد کی۔ آصف محمود میاں، لاہور: پاکستانی سپریم کورٹ کے مطابق سی ڈی اے ان لوگوں کو گھر مہیا کرے تین دن کے اندر جن کے گھر زلزلے میں تباہ ہوئے ہیں، مارگلہ ٹاور والے لوگوں کو۔ کیا ممکن ہے کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج بھی اپنے آپ ایسا حکم دیں کہ بےگھر ہونے والے لوگوں کو تین دن کے اندر اندر کم از کم کھانا، دوا اور فرسٹ ایڈ دی جائے یا ان کو پاکستانی حکومت شیلٹر فراہم کرے۔ ارشد خان، ملتان: میرا دوست جس کا نام طارق محمود ہے، وہ مظفرآباد میں رہتا تھا، اس کا پتہ ہے: جے-ون جلال آباد سیکریٹریٹ، مظفرآْباد۔ وہ اب بھی لاپتہ ہے۔ اگر ان کے بارے میں کسی کو بھی انفارمیشن ہے تو مجھے اطلاع کریں: contakt2me@hotmail.com شاہد اسلم نیازی، میانوالی: میں راولپنڈی میں کالج آف الیکٹریکل انجینیئرنگ میں ہوں۔ میرا ایک بہت ہی اچھا دوست نعیم خان جو بالاکوٹ کا رہنے والا تھا اور انجینیئرنگ کے تیسرے سال میں زیرتعلیم تھا، اپنی ماں، بہن اور دادی کے ساتھ آٹھ اکتوبر کو ہلاک ہوگیا۔ میرے کچھ دوست آٹھ اکتوبر کو بالاکوٹ پہنچے لیکن واپس ہونا پڑا کیوں کہ وہ ملبے کے نیچے تھا اور نو تاریخ تک کوئی مدد نہیں ملی اسے۔ آخر میں گیارہ اکتوبر کو اس کی لاش ملی۔ میرے کالج میں ایک اور دوست جو بالاکوٹ کا رہنے والا ہے اور اس کا نام خورشید خان ہے، اس کے والدین، بھائی اور بہن بھی اس زلزلے میں ہلاک ہوگئے۔ لیکن اب جو زلزلے سے بچ گئے تھے بالاکوٹ چھوڑکر چلے گئے تھے۔ یاسر، میرپور: مجھے میرے دوست شبیر احمد خان کے بارے میں اطلاع چاہئے جو مظفرآباد میں رہتے تھے۔ وہ اسلامی جمعیت طلباء کے جنرل سیکرٹری تھے اپنی طالب علمی کے زمانے میں۔ مظفرآباد میں ان کا اپنا بک ڈپو تھا، انہوں نے وادی نیلم سے انتخاب بھی لڑا تھا۔ اگر ان کے بارے میں کسی کے پاس کوئی انفارمیشن ہے تو پلیز مجھے اطلاع دیں: ymalam78@hotmail.com محمد منصف، لائیبریا: میں ضلع باغ کے ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میرا گاؤں چورچلاری لگ بھگ تباہ ہوگیا ہے۔ لیکن کئی ہلاک نہیں ہوا۔ میری ماں بھی زخمی ہوئی ہے اور اب اسے راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں طبی امداد مل رہی ہے۔ جن لوگوں نے مدد کی ہے ان کا میں شکرگزار ہوں اور ان لوگوں کے لئے دعاء کرتا ہوں جو مشکل میں ہیں۔ اللہ ان کی مدد کرے۔ ذوالقرنین حیدرشاہ، تکال، راولپنڈی: میں کلار سیدان کے نواحی گاؤں تکال کا رہائشی ہوں۔ زلزلے کے بعد میں باغ، مظفرآباد، راولاکوٹ جاچکا ہوں۔ میں آپ کو مظفرآباد کے پاس ایک جگہ بندی کریم حیدرشاہ بالا کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جہاں پہ دو ہفتے گزرنے کے بعد تک حکومت اور این جی اوز کی کوئی امداد نہیں پہنچی اور وہاں کے لوگ کھلے آسمان کے نیچے راتیں شدید سردید میں گزار رہے ہیں۔ حکومت اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کی جانوں کو حقیر نہ سمجھیں اور ان کی فوری مدد کریں۔ اور یہ سوچیں کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا تھا اور میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اب بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ ان چھوٹے علاقوں پر زیادہ توجہ دی جائے جن تک پہلے رسائی ممکن نہ تھی۔ آفتاب احمد، لوٹن، یو کے: میرا نام آفتاب احمد ہے، میں میرپور کا رہنے والا ہوں لیکن انگلینڈ میں رہتا ہوں۔ راولاکوٹ، مظفرآباد اور باغ میں رہنےوالے میرے کئی دوستوں کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے۔ ایک، پروفیسر سردار نسیم خان جو مظفرآباد میں اے جے کے یونیورسٹی میں زولوجی ڈیپارٹمنٹ میں تھے۔ دو، سردار شوکت حیات خان جو راولاکوٹ میں ایڈووکیٹ تھے۔ تین، کملہ بزگہ شریف، راولاکوٹ۔ چار، سلمہ منہاس، باغ۔ پانچ، عاصمہ ضیاء الحق، راولاکوٹ۔ چھ، عذریٰ حافظ، مظفرآباد۔ اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہوں تو مجھے ای میل کریں: aftab.ahmad@o2.co.uk طاہر روحیل، نیپرویلے، امریکہ: میں اپنے اسکول اور کالج کے دوست ڈاکٹر عبدالطیف کی تلاش میں ہوں جو باغ میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ اگر کسی کو ان کے بارے میں معلوم ہو تو مجھے ای میل کریں: trohail@comcast.net سلیمان سبحانی، بارسلونا: میں بارسلونا میں ایک سال سے آیا ہوں، میرا کراچی میں بہت قریبی دوست ہے شفیق الرحمان۔ آج کتنے دن ہوگئے ابھی تک اسکے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں، وادی نیلم کے کسی علاقے میں ان کا گھر ہے۔ میں دن میں کئی بار اس کو فون کرتا ہوں۔ کچھ کیجئے، کم از کم دعا کیجئے۔ ابو ریحان، اونٹاریو: میں مظفرآباد کا رہنے والا ہوں، کچھ نہیں بچا ہمارا، سب ختم ہوگیا، سب لوٹ گیا، افسوس۔ جاوید اقبال، برسلز: میں راولاکوٹ کا رہنے والا ہوں، میرے گاؤں کا نام ہے ڈریک پرل۔ آج بھی فون پر رابطہ ہوا ہے، میرے گاؤں کے لوگ اب بھی کھلے آسمان تلے سردی میں امداد کی طرف نظریں لگائے انتظار میں ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، میری گورنمنٹ سے اور این جی اوز سے اپیل ہے کہ پلیز ان لوگوں کو مرنے سے بچائیے، لوگوں کو زندہ رکھنے کے لئے شیلٹر کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ اس وقت کشمیر کے نام پر جو امداد مل رہی ہے وہ صرف کشمیر پر خرچ ہونی چاہئے۔ شریف خان، فرینکفرٹ، جرمنی: میں مانسہرہ اوگئی کا رہنے والا ہوں۔ میرے پانچ اسکول ٹائم کے دوست زلزلے میں مرگئے، جس شہر میں میں رہتا تھا وہاں بہت سارے مکان گرگئے ہیں، بہت نقصان ہوا ہے، میرا خود مالی نقصان ہوا ہے، جانی نقصان نہیں۔ میرے گھر کی دیوار گرگئی ہے، شکر الحمدلللہ کوئی زخمی نہیں۔ میں نے آج ٹیلی فون کیا گھر والے کہتے ہیں کہ جب سے یہ زلزلہ ہوا اس وقت سے وہ باہر رہتے ہیں، تمبو لگائے ہیں پوری فیملی وہاں رہتی ہے۔ آج پھر زلزلے کے جھٹکے لگے ہیں، سارے شہر کے لوگ گھروں سے باہر ہیں۔ جن کا نقصان ہوا ہے ان کو ابھی تک امداد نہیں ملی اور جن لوگوں کا نقصان نہیں ہوا ان لوگوں نے غریب اور یتیم بچوں کے امدادی سامان لے لیے۔ عظیم سبحانی، انگلینڈ: میرے ایک دوست میر سلیم جو گاؤں پکیکہ، ضلع مظفرآباد میں رہتے ہیں ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔ ایک اور دوست کے مطابق ان کے گاؤں تک کوئی امداد نہیں پہنچی اور لوگ سردی سے بےحال کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ میر سلیم کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں اور کہاں ہے کیوں کہ ان کے گاؤں تاحال مظفرآباد سے راستہ کٹا ہوا ہے۔ اگر کسی کو ان کا پتہ ہو تو مجھے مطلع فرمائیں۔ میرا ای میل ہے: subhanikashmir@yahoo.com آصف محمود میاں، لاہور: میرے ایچ آئی لا کالج لاہور کے کلاس فیلو رشید احمد مغل جو کہ امبور راڑو میں مظفرآباد میں ہیں ان کا بھائی اور بہنوئی شہید ہوگئے ہیں۔ امی ابا زخمی ہیں، بھتیجے بھانجے کو شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ان کا گھر، ان کے ماں باپ کا گھر اور دیگر مکان شہید ہوگئے ہیں۔ اس جگہ پر مولوی عبداللہ کی فیملی رہتی تھی، ابھی تک ان کی کوئی مدد نہیں پہنچ سکی ہے۔ ہیلی کاپٹر وغیرہ بھی ان کے اوپر سے گزار جاتے ہیں، بچوں کو بڑی مشکل سے نکالا ہے، خواتین بھی کھلے آسمان میں رات گزارتی ہیں۔
|