سندھ کی کابینہ میں تبدیلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت میں حکمران جماعت کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کے تین صوبائی وزرا اور ایک مشیر کے قملدان میں تبدیلی کی گئی ہے جس کا باضابطہ نوٹیفیکشین بھی جاری کردیا گیا ہے۔ سندھ کے سینیئر وزیر سردار احمد کا قلمدان تبدیل کرکے انہیں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دیا گیا ہے۔ جبکہ ایم اے جلیل کو محکمہ خزانہ کا قملدان دیا گیا ہے۔ اس طرح صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی سے محکمہ کوآرڈینیشن کا اضافی چارج واپس لیکر سردار احمد کو سونپا گیا ہے۔ صوبائی وزیر صنعت اور ٹرانسپورٹ عادل صدیقی کو محکمہ کوآپریٹو کا بھی صوبائی وزیر بنایا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متحدہ کے وزرا کے قلمدان تبدیل کئے گئے تھے۔ جن کو متحدہ تنظیمی معاملہ قرار دیتی رہی ہے۔ سندھ میں وزارت خزانہ کو سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن میں سخت سیاسی موقف رکھنے کی وجہ سے اس وزارت کی اہمیت بڑہ گئی تھی۔ اس ماہ قومی مالیاتی کمیشن کا اعلان متوقع تھا مگر وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ زلزلے کی بعد اس سال این ایف سی ایوارڈ ممکن نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||