جنرل مشرف کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر مقامی حکومتوں کے انتخابات کا مقصد صدر جنرل پرویزمشرف کی سیاسی بنیاد کومستحکم کرنا تھا تو وہ فتح یاب ہوئے ہیں۔ اندرون سندھ پہلی بار کسی انتخاب میں پیپلز پارٹی کواتنے بڑے پیمانے پر شکست ہوئی ہے اور صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل گزشتہ عام انتخابات والی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکی۔ جب سے یونین کونسلوں کے نتائج آئے ہیں جنرل مشرف بار بار کہہ رہے ہیں کہ عوام نے انتہا پسندوں کو مسترد کردیا ہے اور اعتدال پسندوں کو کامیابی ملی ہے۔ اب وزیراعظم شوکت عزیز بھی یہی مصرع دہرا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کے نتائج آتے ہی حکمران جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے اپنی پریس کانفرنس میں یہی لائن لی تھی۔
یوں لگتا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی مقامی انتخابات میں ناکامی کی تشہیر کا روئے سخن پاکستانی عوام سے زیادہ بین الاقوامی برادری کی طرف ہے۔ حکمران دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ملک میں مذہبی جماعتیں اور نام نہاد بنیاد پرست مقبول نہیں اور کسی کو اس بات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں اقتدار ان جماعتوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے جس خدشہ کا اظہار گاہے بگاہے مغرب میں کیا جاتا ہے۔ لندن میں بم دھماکوں کے بعد پاکستان کو مذہبی سیاسی جماعتوں، ان کی مغرب کی مخالفت کی مہم اور ان سے وابستہ تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے کے لیے جس دباؤ کا سامنا ہوسکتا تھا ان انتخابات کے نتائج کے بعد حکمرانوں کے لیے اس دباؤ کو دور کرنے میں آسانی ہوگی۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات میں مجلس عمل کی کامیابی افغانستان پر امریکہ کے حملہ کے بعد بننے والی جذباتی فضا کا ردعمل تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب وہ فضا بدل چکی ہے۔
صوبہ سرحد میں مجلس عمل کی رکن جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) کے درمیان انتخابات سے پہلے اور بعد میں جس طرح اختلاف پیدا ہوا وہ بھی صدر مشرف کے لیے باعث اطمینان ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے چند روز پہلے کہا ہے کہ مجلس عمل کو تقسیم کرنے والے ناکام ہوں گے۔ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے حامی ان انتخابات میں صرف دو ضلعوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ دو ہزار ایک کے انتخابات کے بعد سندھ کےدس ضلعوں میں اس کے ناظم تھے۔ یہ پہلے انتخابات ہیں جس میں پیپلزپارٹی اس بڑے پیمانے پر اندرون سندھ سے صاف ہوئی ہے۔
صدر مشرف کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی شکست سندھ میں بدلتے ہوئے سیاسی حقائق کا اظہار ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کےمغربی اتحادی اور خصوصًا امریکہ انہیں یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ ملک میں انتہا پسندی کے خلاف کوششوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لیے ایسی بڑی اور مقبول سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں سے اتحاد بنائیں جو نظریاتی طور پر معتدل اور لبرل ہیں جیسے پیپلز پارٹی۔ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کا صدر مشرف کی خارجہ پالیسی اور مذہبی جماعتوں کے بارے میں پالیسی سے کوئی بڑا اختلاف نہیں۔ مقامی انتخابات سے چند ماہ پہلےتک صدر مشرف کے رفقائے کار اور پیپلز پارٹی کی قیادت خاص طور سے آصف علی زرداری کے درمیان باہمی مفاہمت کے لیے مذاکرات چل رہے تھے۔ اس کا اعتراف وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد اور وزیر اعظم شوکت عزیز بھی کر چکے ہیں۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کے دوران میں یہ کہا گیا تھا کہ حکومت نے پیپلز پارٹی سے کہا ہے کہ وہ مقامی انتخابات غیرجانبدرانہ اور منصفانہ کرائے گی تاکہ پیپلزپارٹی اپنی جگہ بناسکے۔ پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ مقامی انتخابات حکومت کا ٹیسٹ کیس ہوں گے۔ اب پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی اور وہ اکتیس اگست سے سندھ میں اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی کامقامی انتخابات میں جس طرح صفایا ہوا ہے اس سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ پرویزمشرف کی سیاسی منصوبہ بندی میں پیپلزپارٹی کے لیے جگہ نہیں۔
ان نتائج کی بنا پر وہ امریکہ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک ایسی پارٹی سے کیسے مفاہمت کریں اور اسے رعائتیں کیوں دیں جو عوام میں مقبول نہیں رہی۔ رہے دھاندلی کے الزامات تو حکومتی رہنماؤں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ پاکستان میں ہارنے والی پارٹیوں کی جانب سے ایسے الزامات لگانا معمول کی بات ہے۔ اگر’پاور پالیٹکس‘ یعنی اقتدار کی سیاست کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یونین کونسلوں کے انتخابات سے پرویز مشرف کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ حکمران مسلم لیگ میں شاید ان کی حمایت کی راہ ہموار کرنے اور اگلے عام انتخابات میں ان کے حامیوں کو جتوانے کا دم خم ہو یا نہ ہو مقامی حکومتوں کے اسی ہزار سے زیادہ ارکان ان کی جیب میں ہیں۔ پرویز مشرف ان کونسلروں اورناظموں کی مدد سے پارلیمنٹ کی دو تہائی نشستیں جیتیں یا ان کے ووٹوں سے صدر بن کر صدارتی نطام لےآئیں، راستے کھلے ہیں۔ جہاں تک جمہوریت اور جمہوری اداروں کا تعلق ہے تو پاکستان کی اٹھاون سالہ تاریخ میں اس کے حکمران طبقہ نے ان باتوں کی پرواہ کب کی ہے؟۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||