صدر مشرف نیوزی لینڈ کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دورہ نیوزی لینڈ کا آغاز کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کے اس دورے کے دوران دونوں ممالک سیکیورٹی اور تجارت جیسے معاملات پر بات چیت کریں گے۔ پاکستانی صدر جب آک لینڈ پہنچے تو ماؤری قبیلے کے افراد نے روایتی طریقے سے ان کا استقبال کیا۔ اس طریقہ استقبال میں صدر مشرف نے ایک چھڑی اٹھا کر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ پر امن دورے پر نیوزی لینڈ آئے ہیں۔ آک لینڈ ائیر پورٹ پر سکیورٹی کے پیشِ نظر صدر مشرف کے محافظین سے ہتھیار لے لیے گئے۔ یاد رہے کے صدر مشرف پر پاکستان میں دو بار قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ جنرل مشرف اپنے اس دورے کے دوران نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم ہیلن کلارک سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے دوران دہشت گردی کے مقابلے، جوہری ہتھیاروں اور پاک بھارت تعلقات جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین سالانہ صرف اکہتر ملین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور دونوں ممالک اس میں اضافے میں دلچسیپی رکھتے ہیں۔ صدر مشرف نیوزی لینڈ سے اتوار کو ملائشیا روانہ ہو جائیں گے۔ نیوزی لینڈ آمد سے قبل صدر مشرف آسٹریلیا کے تین روزہ دورے پر تھے۔ وہ پہلے پاکستانی صدر ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||