دہشت گردی کے خلاف معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور آسٹریلیانے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے پر کینبرا میں صدر پرویز مشرف کے دورے کے دوران دستخط ہوئے ۔ آسٹریلیا کی حکومت نے انتہا پسندی کے خلاف ان کی جنگ کو سراہا ہے۔ سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار فل مرسر لکھتے ہیں کہ پاکستان اور آسٹریلیا میں ایک بات یکساں ہے یہ دونوں ہی ملک دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے کٹر حامی ہیں۔ کینبرا میں ان دونوں امریکی اتحادیوں نے ایک نئے سکیورٹی معاہدے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ۔ دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق اس میمورنڈم کے تحت دونوں ملکوں کی دفاعی اور خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کو اطلاعات فراہم کرائیں گی اور ان کی مشترکہ طور پر تربیت ہوگی۔ صدر مشرف اس ہفتے کے اوائیل میں کینبرا پہنچے تھے جہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کی 21 توپوں سے سلامی ہوئی اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاکستان کے کسی سربراہ کا آسٹریلیا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے دہشت گردی کے خلاف صدر مشرف کی مہم کی ستائش کی۔ صدر مشرف نے اس دورے کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی مثبت سوچ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اس معاملے پر سالوں سے جاری تنازعہ جلد حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے موجودہ رہنماؤں کے پاس امن قائم کرنے کایہ ایک موقع ہے ۔آسٹریلیا کے تین روزہ دورے کے بعد صدر نیوزی لینڈ کے مختصر دورے پر جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||