BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید آسٹریلوی گندم مسترد
گندم
آسٹریلوی ادارے نے پاسکو نے اس دعوے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ گندم پھپھوندی سے مثاثرہ ہے
پاکستان نے دو بحری جہازوں پر لدی ستر ہزار ٹن آسٹریلوی گندم کو وصول کرنےسے انکار کر دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستانی حکام نے آسٹریلیا سے لائی گئی اسی ہزار ٹن گندم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاسکو کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ آسٹریلوی گندم کے معائنہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک خاص قسم کی پھپھوندی سے متاثرہ ہے اور انسانی استعمال کے غیر موزوں ہے۔

’پہلے سے کراچی کی بندر گاہ پر موجود اسی ہزار ٹن گندم کے نمونوں کے ازسرنو معائنے اور دو جہازوں میں لائی جانے والی ستر ہزار ٹن آسٹریلوی گندم کے ابتدائی جائزے کے بعد سپلائی کرنے والے ادارے کو اس بارے میں اطلاع بھجوا دی گئی ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق گندم کے نمونوں کے ازسرنو معائنے کا حکم اس وقت دیا گیا جب سپلائی کرنے والے آسٹریلوی ادارے نے پاسکو نے دعوے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان میں گندم درآمد کرنے والی کمپنی ابھی تک پاسکو کی طرف سے کئے جانے معائنے کے نتائج کو ماننے سے انکارکر رہی ہے اور پاسکو کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے کہہ رہی ہے جبکہ پاسکو کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ گندم کے نمونوں کا تیسری دفعہ معائنہ نہیں کروائیں گے کیونکہ تازہ ترین معائنہ آسٹریلوی ماہرین کی موجودگی میں کرایا گیا تھا۔

دوسرے طرف آسٹریلوی حکام بھی گندم کے پھپھوندی سے متاثر ہونے سے متعلق پاکستانی دعوے کو ماننے سے انکارکر رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر تجارت مارک ویل اور وزیر زراعت وارن ٹرس نے اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے گندم سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی وضاحت کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی سے رابطہ قائم کیا ہے۔

وزیر زراعت نے کہا کہ آسٹریلوی سائنسدانوں کو گندم میں پھپھوندی سے آلودگی کے کوئی نشانات نہیں ملے اور اگر اس کے متعلق کوئی تنازعہ موجود ہے تو اسے گندم کے نمونوں کے برطانیہ یا امریکہ میں قائم کسی لیبارٹری سے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کے حل کرایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد