| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’موت کے جہاز‘ پر بھیڑیں
ایک آسٹریلوی بحری جہاز پچاس ہزار سے زائد بھیڑوں کو لئے تقریباً چھ ہفتے سے خلیجِ فارس میں کھڑا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ بھیڑیں سعودی عرب لائی جا رہی تھیں تاہم بعد میں صحت سے متعلق تحفظات کے پیشِ نظر سعودی حکام نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان بھیڑوں میں سے چھ فیصد منہ کی خارش کی بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ آسٹریلوی حکام کا دعویٰ ہے کہ صرف چند بھیڑیں بیماری سے متاثر ہیں۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تین ہزار سے زائد بھیڑیں خراب موسمی حالات کے باعث مر چکی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود بقیہ بھیڑوں کو ضائع کردینا چاہئے۔ آسٹریلوی ذرائع ابلاغ نے اس بحری جہاز کو ’موت کا جہاز‘ کا نام دیا ہے۔ اب یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ ان جانوروں کو بلا معاوضہ مشرقِ وسطیٰ یاافریقہ کے کسی ملک اتار دیا جائے۔ تاہم یہ اقدام بھی مشکل ثابت ہورہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی بھیڑوں کی اس کھیپ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ آسٹریلوی حزبِ مخالف کے رہنما نے وزیرِ اعظم جان ہاورڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور بھیڑوں کو کسی ملک اتارنے کے لئے حکومتوں سے رابطے کریں۔ آسٹریلیا نے سعودی عرب کے لئے مویشیوں کی سپلائی معطل کردی ہے۔ اور یہ اس وقت تک معطل رہے گی جب تک ماہرینِ صحت یہ اشارہ نہیں دیتے کہ مویشیوں کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا مویشی درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑاملک ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |