آسٹریلوی مسلمان پر فرد جرم عائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نژاد ایک آسٹریلوی باشندے فہیم خالد لودھی کو انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت سڈنی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے اور ایک دہشت گرد گروہ کے لئے لوگوں کو بھرتی کرنے کی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ فہیم خالد لودھی کی عمر چونتیس برس ہے اور وہ پیشہ ور آرکیٹکٹ یعنی ماہر تعمیر ہیں۔ آسٹریلیا کے وفاقی پولیس کمشنر مِک کیلٹی کے مطابق یہ گرفتاری فرانسیسی شہری وِلی برجٹ کی سرگرمیوں کی چھان بین کے سلسلے میں عمل میں آئی ہے۔ وِلی برجٹ کو گزشتہ اکتوبر سڈنی سے واپس بھیج دیا گیا اور اب ان سے پیرس میں پوچھ گچھ جاری ہے۔ وِلی برجٹ پر آسٹریلیا میں شدت پسندوں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے۔ آسٹریلیا اور پاکستان کی دوہری شہریت رکھنے والے فہیم خالد لودھی کا ریمانڈ جاری کر دیا گیا ہے۔ سڈنی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار فِل مرسر کے بقول چھان بین کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ لودھی ’ایک تنصیب‘ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڈنی کے نواح میں واقع ایک جوہری تنصیب کو حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ تاہم عدالت میں کسی ممکنہ ہدف کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے مطابق فہیم خالد لودھی پر جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں انہیں کم سے کم پانچ برس اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ لودھی کے وکیل سٹیفن ہاپر کے مطابق ان کے موکل کے خلاف کیس ’خاصا کمزور‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لودھی نرم خو ہیں اور انتہا پسند خیالات نہیں رکھتے۔ آسٹریلیا کے وفاقی پولیس کمشنر مِک کیلٹی کے خلاف کیس کا تعلق وِلی برجٹ اور گزشتہ ہفتے سڈنی میں میڈیکل کے اکیس سالہ پاکستانی طالب علم کی گرفتاری سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||