چار پاکستانی بھائی آسٹریلوی جیل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا ہجرت کر جانے والے چار پاکستانی بھائیوں کو سڈنی میں دو نوجوان لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں جمعرات کو دس سے بیس برس تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ انہی بھائیوں کے ساتھ شامل پچیس برس کے پانچویں ملزم نے، جسے ابھی عدالت میں سزا سنائی جانی تھی، گزشتہ ہفتے جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان دونوں لڑکیوں کو، جن کی عمریں سولہ اور سترہ برس ہیں، جولائی سن دو ہزار دو میں سڈنی میں واقع ان بھائیوں کے گھر والوں کی رہائش گاہ میں چھری کی نوک پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پاکستانی بھائیوں میں سے ایک کی گرل فرینڈ نے عدالت کو بتایا کہ اسے ایک مجرم نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے ’محض تفریح کی خاطر‘ لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان چاروں بھائیوں نے عدالت میں کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے نظام قانون سے لاعلم تھے۔ یہ بھائی، جن کی عمریں سترہ اور پچیس برس کے درمیان ہیں، سن دو ہزار دو کے بعد مختلف موقعوں پر ہجرت کر کے سڈنی پہنچے تھے۔ ان بھائیوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں کیونکہ جرم کے ارتکاب کے موقع پر دو چھوٹے بھائیوں کی عمریں اٹھارہ برس سے کم تھیں۔ جج برائن سولی نے مجرمین کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ پولیس نے انہیں مسلمان ہونے کی بنا پر اس مقدمے میں پھنسایا ہے۔ استغاثہ نے عدالت میں موبائل فون پر ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ اور ڈی این اے کی رپورٹ کے علاوہ دیگر شواہد بھی پیش کئے۔ دو بھائیوں کو، جن کی عمریں پچیس اور سترہ برس ہیں، بائیس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ تئیس اور انیس برس کے باقی دو بھائیوں کو بالترتیب سولہ اور دس برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||