آسٹریلیا: دھماکہ خیز مواد چوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں ایک گودام سے ساڑھے تین ٹن کیمیائی کھاد چوری ہو گئی ہے جس کے بارے میں خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سے دہشت گرد بم بنا سکتے ہیں۔ امونیم نائٹریٹ نامی یہ کھاد آسٹریلیا کے جنوبی شہر ایڈلیڈ سے چوری ہوئی ہے۔ پولیس کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ کہا جا سکے کہ کھاد غلط عناصر کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جرم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کھاد گئی کہاں۔ کھاد کی چوری کی مذکورہ رپورٹ حکومت کے اس اعتراف کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے کہ سن دو ہزار ایک کے بعد سے فوج کے پاس سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ چوری ہو چکا ہے۔ کھاد کی چوری کے بارے میں پولیس کا کہناہے کہ اس کا انکشاف گزشتہ ماہ معمول کی آڈیٹنگ کے دوران ہوا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امونیم نائٹریٹ زراعت کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے اور اس سے بڑا دھماکہ کیا جا سکتا ہے۔ سن دو ہزار میں انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں بھی بم دھماکوں کے لئے بھی امونیم نائٹریٹ استعمال کی گئی تھی۔ حال ہی میں برطانیہ میں بھی انسداد دہشت گردی پولیس نے چھاپوں کے دوران امونیم نائٹریٹ قبضے میں لی ہے۔ آسٹریلیا میں حکومت نے کھاد کی خریداری کے لئے قوانین سخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان قوانین کا اطلاق کسانوں پر بھی ہوگا۔ نامہ نگاروں کے مطابق آسٹریلیا میں لوگوں کو خدشہ ہے کہ حکومت کی عراق کے بارے میں امریکی پالیسی کی زبردست حمایت کی وجہ سے کوئی اسلامی تنظیم وہاں حملہ کروا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||