گندم درآمد کرنے کی منظوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ملک میں گندم کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یہ منظوری دی گئی جس میں وزراء اعلیٰ کے علاوہ سینیئرحکام نے بھی شرکت کی۔ سرکاری ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ سرحد اور بلوچستان کو ان کی ضرورت کے مطابق گندم فراہم کی جائے جبکہ سندھ حکومت کو انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کے معاملے میں ’پاسکو‘ کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ خریداری کا حدف پورا کر سکیں۔ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل تک حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملک میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے لیکن اب اچانک دس لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران سرحد کے صوبائی وزیر خوراک نے پنجاب پر گندم مطلوبہ مقدار میں فراہم نہ کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے براہ راست گندم کی درآمدگی کی اجازت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہیں وفاقی حکومت نے اجازت نہیں دی تھی ۔ چند ہفتے قبل حکومت نے آسٹریلیا سے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن کے قریب گندم درآمد کی تھی لیکن جب آسٹریلوی گندم پاکستان پہنچی تو حکام نے اسے غیر معیاری قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وہی گندم آسٹریلوی حکومت نے سری لنکا اور مشرق وسطٰی کے بعض ممالک کو بیچ دی تھی۔ ایسی صورتحال میں اخبارات نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ جن ممالک نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے مسترد کردہ آسٹریلوی گندم خریدی ہے ان ممالک کے خوراک کے قوانین پاکستان سے بھی سخت ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||