’یہیں اپنی زندگیاں دوبارہ بنائیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہلک زلزلے کے تقریباً تین ہفتے بعد بھی مظفر آباد تباہی کے آثار سے بھرا پڑا ہے۔ گری ہوئی عمارتیں، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بری طرح متاثرہ گھر، قطار اندر قطار زلزلے سے متاثرہ لوگوں سے بھرے خیمے۔ تاہم شروع کے دنوں کی نسبت جو تبدیلی آئی ہے وہ لوگوں کے طرزِ عمل میں ہے۔ اب آپ کو لوگ بلا مقصد پھرتے نظر نہیں آتے جن کے دماغ ماؤف ہوں اور جنہیں کچھ سمجھ نہ آ رہی ہو۔ اب ان میں سے زیادہ تر لوگ اس جھٹکے سے سنبھلے ہوئے ہیں اور بچی کھچی زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کےلیے پر عزم نظر آتے ہیں۔ عبدالحمید، جو کہ حجام ہیں، کہتے ہیں، ’مجھے اب بھی چھت کے نیچے دبنے کا خوف ہے لیکن میں یہ جگہ نہیں چھوڑوں گا۔ یہ میرا گھر ہے اور یہیں میں اپنی زندگی دوبارہ بناؤں گا‘۔ حجام کی یہ دکان ان بہت سی دکانوں میں سے ہے جو شہر کے بڑے بازار میں دوبارہ کھل گئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گھریلو سودا سلف اور کپڑے کی دکانیں، بیکریاں اور کال سنٹر ہیں۔ بنکوں نے بھی کام شروع کر دیا ہے چونکہ مقامی لوگوں کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ دکانوں میں سامان کافی تعداد میں موجود ہے۔ دوکانداروں کے مطابق کاروبار تیز ہے۔ دوکاندار زبیر صمد کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر متاثرین خوشحال لوگ تھے، انہیں امدادی ٹرکوں کے پیچھے بھاگنے یا کیمپوں میں قطاروں میں کھڑے ہونےسے نفرت ہے۔ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں خود خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں‘۔
فوج کی امدادی ٹیم کے سربراہ برگیڈیر مقصود احمد کا کہنا ہے، ’میرے خیال میں جس طرح اس شہر کے لوگوی نے اکٹھے گزارہ کیا ہے وہ بہت شاندار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ متاثرہ علاقے سے باہر کے لوگوں کو تباہی کی شدت کا اندازہ نہیں ہے، جو لوگوں کے جذبے کو مزید قابلِ تحسین بنا رہا ہے‘۔ مشیر برائے بنیادی حکومت فاروق حیدر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہوئے نقصان کے متعلق اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ’اب تک (ستائیس اکتوبر) ہم کشمیر میں 43363 ہلاکتوں اور 30967 شدید زخمیوں کی تصدیق کر سکے ہیں۔ یہ تعداد بڑھنے کے امکانات ہیں کیونکہ بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں ہم ابھی تک نہیں پہنچ سکے ہیں‘۔ گھروں کو پہنچنے والا نقصان بھی اتنا ہی ہے۔ قریباً 60000 پکے گھر اور 115000 کچے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور قریباً 70000 نا قابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔ 6000 سے زائد دوکانیں 150 سے زائد طبی سہولیات اور 350 سرکاری عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی مطابق حتمی تعداد کا تعین کرنے میں ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔ ’لیکن جو بھی حتمی تعداد ہو گی ان معلومات سے زیادہ ہو گی‘۔ جو لوگ زندگی گزارنے کے لئے پر عزم ہیں ان کے لئے سرکاری حلقوں کی طرف سے امداد بہت کم ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت انہیں بتائے کہ وہ ان کے لیے کیا منصوبے بنا رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ وہ کب اور کیسے اپنے گھر دوبارہ بنانا شروع کریں۔ اور کس حد تک حکومت ان کی مدد کرے گی۔ |
اسی بارے میں چناری میں اب تک مدد نہیں پہنچی28 October, 2005 | پاکستان باغ: صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم 28 October, 2005 | پاکستان فی خاندان ایک لاکھ، ’زیادتی ہے‘28 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||