BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بےسہارا بچے سو سے زیادہ نہیں‘
متاثرہ بچی
حکومت نے بے سہارا بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی ہے
وزیراعظم کی مشیر برائے بہبودِ خواتین نیلوفر بختیار کا دعوٰی ہے کہ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق زلزلے کے بعد بالکل بے سہارا رہ جانے والے بچوں کی تعداد صرف ساٹھ سے سو تک ہے۔

بی بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعدادوشمار کے مطابق ساٹھ عورتیں اور بچے ایسے ہیں جو کہ بالکل بے سہارا ہیں اور ہسپتالوں میں یا ہمارے مراکز میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ نجی ’شیلٹر ہوم‘ میں چلے گئے ہیں اور حکومت انہیں اپنے مراکز میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘۔

اس سوال پر کیا اتنی بڑی تباہی کے بعد صرف ساٹھ بے سہارا عورتوں اور بچوں کی تعداد کم نہیں، نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ’مجھے خدشہ ہے کہ اور بچے بھی آئیں گے اور حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ تاہم اخبارات میں جس قسم کی صورتحال پیش کی گئی اس سے ایسا لگتا تھا کہ ایسے ہزاروں افراد ہیں جو بےسہارا ہو گئے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے بچے ہیں جن کے لواحقین کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔‘

بے سہارا بچوں کی حفاظت سے متعلق سوال پر وزیرِاعظم کی مشیر کا کہنا تھا کہ’ ہم نے ان بچوں اور عورتوں کی رہائش کی جگہ پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو جب لواحقین کے حوالے کیا جاتا ہے تو مجسٹریٹ کی موجودگی میں مکمل قانونی کارروائی کے بعد ہی ان بچوں اور خواتین کو لے جانے دیا جاتا ہے‘۔

 ’ہمارے اعدادوشمار کے مطابق ساٹھ عورتیں اور بچے ایسے ہیں جو کہ بالکل بے سہارا ہیں اور ہسپتالوں میں یا ہمارے مراکز میں موجود ہیں
نیلوفر بختیار

جب نیلوفر بختیار سے پوچھا گیا کہ صرف ساٹھ لوگوں کے لیے اتنے وسیع پیمانے پر حفاظتی انتظامات کی کیا ضرورت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ’ پہلے ساٹھ سے زیادہ تھے۔ ساٹھ بالکل صحیح تعداد نہیں ہے اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ میں اندزاً یہ تعداد بتا رہی ہوں کیونکہ یہ اعدادوشمار روزانہ بدلتے ہیں۔ ہم نے سیکیورٹی اس لیے سخت کی کیونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ یہ بچے کہیں غلط لواحقین کے ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔ حکومت نے انہیں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے حفاطتی اقدامات کیے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں بچوں کے بے سہارا ہونے کی خبریں آ رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’ میرے پاس موجود اعدادوشمار درست ہیں اور میں یہ بات حتمی طور پر کہہ سکتی ہوں کہ بے سہارا بچوں کی تعداد سو سے کسی صورت زیادہ نہیں ہے۔ ان علاقوں میں خاندانی نظام بہت مضبوط ہے اور اگر کسی بچے کا کوئی بھی رشتہ دار بچ گیا ہے تو وہ اس بچے کو حکومتی تحویل میں دینے کو تیار نہیں ہوتا‘۔

وزیرِاعظم کی مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص کو ان بچوں کو گود لینے نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق’ان بچوں کو چھ ماہ تک ہم اپنے مرکز میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے مرکز کھول دیے ہیں جہاں ان بچوں اور بے سہارا عورتوں کی دیکھ بھال کی جائے گی‘۔

 مطابق’ان بچوں کو چھ ماہ تک ہم اپنے مرکز میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے مرکز کھول دیے ہیں جہاں ان بچوں اور بے سہارا عورتوں کی دیکھ بھال کی جائے گی

نیلوفر بختیار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں حکومت ان غیر سرکاری اداروں کو یہ بچے دے سکتی ہے جو اس کام کے سلسلے میں اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ تاہم اس صورت میں بھی ان کی سرپرستی حکومت ہی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ’ ہم نے ایک ایسا کیمپ بھی بنایا ہے جہاں ایسے خاندانوں کو رکھا گیا ہے۔ان خاندانوں میں اکیلے باپ اور ان کے بچے ہیں۔ ابتدائی طور پر حکومت چاہتی ہے کہ یہ لوگ عارضی طور پر اسلام آباد میں رہیں اور بعد میں حکومت ایسے مراکز مظفرآباد اور صوبہ سرحد میں بنا رہی ہے جہاں حکومت خود ان کی کفالت کرے گی‘۔

66’ابھی یا کبھی نہیں‘
زلزلے کے متاثرین کے لیے فوری امدادی چاہیے
66طیبہ کی کہانی
’میری آنکھوں میں خون جم گیا ہے‘
66برفباری سے قبل
کیا وادئ نیلم والے امداد تک پہنچ سکیں گے؟
66ایک ٹانگ سے محروم
زلزلہ: تسنیم اختر ایک ٹانگ سے محروم ہوگئی
اسی بارے میں
دیکھو بچو ہاتھی آیا
30 October, 2005 | پاکستان
کاغان ویلی ابھی تک محصور
31 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد