BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 08:18 GMT 13:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاغان ویلی ابھی تک محصور

کاغان
جرید جاتے ہوئےراستے میں ایک پہاڑ جس کا پورا حصہ غائب ہے۔
اسوقت زلزلہ زدہ علاقوں کی جن تین وادیوں میں سڑک کا رابطہ منقطع ہونے کے سبب لاکھوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں کاغان ویلی ان میں سے ایک ہے۔باقی دو یعنی جہلم اور نیلم ویلی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہیں۔

تقریباً نوے میل طویل کاغان ویلی کی چوڑائی اتنی تنگ ہے کہ بیک وقت تین ہیلی کاپٹر ایک ہی سمت میں پرواز نہیں کرسکتے۔اسی لئے یہاں امداد پہنچانے کی رفتار باقی علاقوں کی نسبت سست ہے۔

اس ویلی میں جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں بالاکوٹ سے اوپر کوائی پارس اور جرید کے علاقے سرِ فہرست ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں فوج زلزلہ آنے کے آٹھ روز بعد تک ہی پہنچ سکی۔

مجھے ہفتے کے روز جرید میں اترنے کا موقع ملا۔لوگوں سے گفتگو سے اندازہ ہوا کہ نوے فیصد گھر تباہ ہوچکے ہیں۔جبکہ یونین کونسل مہاندری جس میں جرید بھی شامل ہے کوئی آٹھ سو کے لگ بھگ لوگ ہلاک اور ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

جرید جاتے ہوئے فضا سے میں نے دیکھا کہ ایک جگہ پہاڑ کا پورا حصہ غائب ہے۔پارس تک راستے میں پڑنے والے تمام گاؤں کے سوفیصد کچے گھر تباہ نظر آئے۔اسکے بعد کا منظر یہ تھا کہ کچھ پکی عمارتوں کے ڈھانچے تو برقرار تھے لیکن باقی سب کچھ دگرگوں حالت میں تھا۔

بالاکوٹ ناران روڈ جو دو برس پہلے ہی مکمل ہوئی تھی کئی جگہ اسے پہاڑی پتھر اور تودے اس طرح اپنے ساتھ لے گئے جیسے یہاں کبھی کوئی سڑک ہی نہیں تھی۔فوجی انجینیرز کئی مقامات پر روڈ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کے سبب لینڈ سلائیڈنگ پھر سے کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔

فوج کی امدادی ٹیم اگرچہ زلزلے کے پانچویں روز کاغان کے قصبے میں اتار دی گئی تھی لیکن اسے وادی کے اندرونی علاقوں میں ہونے والے شدید نقصان کا ادراک کرتے کرتے کئی دن اور لگ گئے ۔ جس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جرید اور اس سے نیچے کے متاثرہ علاقوں میں فوج زلزلہ آنے کے آٹھ روز بعد تک ہی پہنچ سکی۔اسوقت تک مقامی لوگ اپنے مردے دفنا چکے تھے اور خاصے اشتعال میں تھے۔چنانچہ جب پہلا ہیلی کاپٹر اترا تو امداد کے منتظر لوگوں میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ ایک این جی او سنگی کا ایک عہدیدار طارق ہیلی کاپٹر کے ٹیل روٹر سے ٹکرا کر ہلاک ہوگیا۔

جب میں انتیس تاریخ کو جرید پہنچا تو اسوقت بھی پہاڑوں سے اکا دکا زخمیوں کو میڈیکل کیمپ میں لایا جارہا تھا۔جہاں صرف ایک فوجی ڈاکٹر کیپٹن علی اور انکی معاونت کے لئے دوتین نیم طبی عملے کے ارکان تھے۔متحدہ عرب امارات کی ایک فوجی میڈیکل ٹیم بھی چند گھنٹے کے لئے آئی ہوئی تھی ۔

راستے بند ہونے کے سبب پچھلے گیارہ روز میں جرید کے علاقے سے کوئی سواتین سو زخمیوں کو فضائی راستے سے بالاکوٹ،مانسہرہ اور اسلام آباد منتقل کیا جاسکا ہے۔جبکہ علاقے کے پانچ ہزار کنبوں میں سے صرف ساڑھے چار سو کے لگ بھگ خاندانوں کو سر چھپانے کے لئے ٹینٹ مل سکا ہے۔

اس علاقے میں ریلیف کے انچارج میجر ذوالفقار نے بتایا کہ وہ مقامی باشندوں کو مسلسل یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہاں پر دس دس روز تک راشن اور ٹینٹ کا انتظار کرنے کے بجائے اگر یہ لوگ بالا کوٹ تک دو تین روز کا پیدل سفر کرلیں تو وھاں انہیں سب کچھ مل جائے گا۔

میں نے امداد کے منتظر لوگوں سے گفتگو میں اندازہ لگایا کہ وہ اس بارے میں خاصے تذبذب کا شکار ہیں کہ اگر وہ یہ علاقہ چھوڑ کر نیچے جائیں تو انہیں وہاں بھی سہولیات میسر آئیں گی یا وہ مزید دربدر ہوجائیں گے اور اپنے مال مویشیوں اور ملبے میں دبے ہوئے سامان سے بھی جائیں گے۔

کئی لوگوں نے بتایا کہ وہ کھانے پینے کی اشیا کی قلت کے سبب پیدل بالاکوٹ تک گئے اور تھوڑی بہت رسد لے کر واپس آگئے۔کیونکہ انکا سب کچھ یہاں دبا ہوا ہے۔

ایک مقامی ٹیچر فدا احمد کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے رشتے دار نیچے کے علاقوں میں موجود ہیں وہ تو رفتہ رفتہ یہاں سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ سردیوں کے عروج کے زمانے میں یہاں آٹھ سے دس فٹ تک برف پڑ جاتی ہے لیکن جن لوگوں کا کوئی نہیں ہے وہ آخری وقت تک امداد کی آس میں یہاں رہنے کی کوشش کریں گے۔

میری تبلیغی جماعت کے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جو گوجرانوالہ سے جہاں تک گاڑی جاسکتی ہے وہاں سے آگے پاپیادہ جرید تک پہنچے۔جماعت کے نوجوان امیر سعیدنے بتایا کہ وہ متاثرین کے لئے کچھ دوائیں، کمبل اور خوردونوش کا سامان بذریعہ ہیلی کاپٹر بھجوا چکے ہیں اور اب وہ متاثرین کو یہ پیغام پہنچائیں گے کہ اگر مسلمان بد اعمالیوں سے باز آجائیں تو زلزلوں سے بچا جاسکتا ہے۔میں نے امیرِ جماعت سے جاننا چاہا کہ ان لوگوں نے ایسا کونسا سنگین گناہ کیا تھا جس کی انہیں اتنی بڑی سزا ملی۔سعید کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ان سے ہی کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہو۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ پورا جسم بیمار ہوتا ہے لیکن مرض کی علامات جسم کے کسی ایک حصے پر ظاہر ہوتی ہیں۔

میں نے امیرِ جماعت سے پوچھا کہ عید کا دن کہاں گذاریں گے۔کہنے لگے پہلی تاریخ کو ہم گھر لوٹ جائیں گے۔انشااللہ۔

صاحب ایک تنبو لادو
’مجھے اور میری بہن کو سردی لگتی ہے‘
66دونوں کا مقصد ایک
متاثرہ علاقے: اوپر امریکی ہیلی کاپٹر، نیچے جہادی
66دکھ میں شانہ بشانہ
بٹگرام میں ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک
66الائی کا کیا ہو گا؟
الائی والے سرد موسم کا مقابلہ کر پائیں گے؟
اسی بارے میں
پہاڑ گرے اور گاؤں غائب
20 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد