’صاحب! ایک تنبو لادو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جن کے پورے پورے یا آدھے خاندان ختم ہوگئے انہیں اس سے کیا کہ عالمی برادری ڈیڑھ کروڑ ڈالر چندہ دیتی ہے یا اٹھاون کروڑ ڈالر۔ انہیں اس بات کی کیوں پروا ہو کہ حکومت نے پہلے پہل جذباتی ہوکر فی ہلاک شدہ ایک لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیوں کیا اور پھر اسے ایک لاکھ روپیہ فی خاندان کیوں کردیا۔ وہ کیوں اس بات پر کان دھریں کہ انکے لئے فائبر گلاس کے گھر کب اور کہاں بنیں گے۔فی الحال تو انہیں اپنے سر پر سائے کے لئے مکئی کی فصل کا پھونس وافر دستیاب ہے۔ چین سے تین لاکھ ٹینٹ جلدآ رہے ہیں! آیا کریں۔ نیٹو کی فوج اور مزید امریکی شنوک پہنچ رہے ہیں! پہنچتے رہیں۔ سعودی عرب نے تمام کارگو فلائٹس کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے! بڑی اچھی بات ہے۔ مگر میں گڑھی حبیب اللہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پہلی جماعت کے طالبِ علم منان کا کیا کروں۔جس سے میں نے پوچھا کہ تمہارے گھر کے کتنے لوگ باقی ہیں تو اسکا جواب تھا۔ صاحب ایک تنبو لادو نا! اچھا یہ بتاؤ منان تمہارے ابو کیا کرتے ہیں؟ کہیں سے ایک تنبو منگوا دو! منان تمھارے کتنے ہم جماعت ملبے میں دب گئے؟ مجھے تنبو کہاں سے ملےگا! اچھا چلو گاڑی میں بیٹھو۔میں تمھیں ایک کیمپ سے کچھ کھانے پینے کا سامان دلانے کی کوشش کروں۔مگر تم تو چھوٹے سے ہو آخر کتنا وزن اٹھا پاؤ گے؟ صاحب کسی سے کہہ دو نا، ہمیں صرف ایک تنبو دے دے! چلو تم میرے ساتھ نہیں چلتے نہ سہی۔یہ تو بتادو کہ جب تم رات کو سوتے ہو تو کس طرح کے خواب دیکھتے ہو؟ مجھے اور میری بہن کو سردی لگتی ہے آپ ایک تنبو تو دلواسکتے ہونا! منان کیا میں تمہیں مظفرآباد یا اسلام آباد کی اس ڈیلی بریفنگ میں لے جاؤں جس میں تم خود سن لوگے کہ حکومت کتنی جان توڑ کوشش کررہی ہے ہر خاندان کو سردیاں شروع ہونے سے پہلے تنبو دینے کے لئے۔ بس کچھ دنوں کی بات ہے۔تم اکیلے تو نہیں ہونا منان! دس لاکھ ٹینٹوں کی ضرورت ہے اور ان میں سے ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ آ بھی چکے ہیں۔یقین نہیں آتا تو چلو کسی افسر سے ملوادوں۔اقوامِ متحدہ کے کسی اہلکار سے پوچھ لو۔بولو کس سے ملوگے ؟ آپ میرے ابو کو لے جائیں نا اور انہیں کسی سے بھی ایک تنبو دلوادیں! | اسی بارے میں ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان مالی امداد پالیسی میں پھر تبدیلی29 October, 2005 | پاکستان دیکھو بچو ہاتھی آیا30 October, 2005 | پاکستان جب کوئی احساس ہی نہ رہے 28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||