BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘
متاثرین
’علاقوں میں گرائی جانے والی امداد پر با اثر افراد قبضہ کر لیتے ہیں‘
پاکستان اور کشمیر میں آنے والے زلزلے کے تین ہفتے بعد بھی وادی نیلم کے کچھ علاقوں تک کسی قسم کی امداد نہیں پہنچ سکی ہے اور متاثرین میں امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور امداد کی تقسیم کے معاملے پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے ذوالفقار علی اور عامر احمد خان نے مظفرآباد سے وادی نیلم جانے والے پہاڑی راستے پر سفر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک اہم مسئلہ یہ نظر آتا ہے کہ فوج اور متاثرین کے درمیان باہمی اعتماد میں دونوں طرف سے کمی آ رہی ہے۔ ’ایسا نہیں ہے کہ صرف لوگ ہی فوج پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ اب فوجی بھی لوگوں پر تنقید کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ راستے میں ہمیں ایک فوجی ملا تو اس کا ہم سے واحد سوال تھا کہ ’ آپ کتنے جھوٹ سن کر آ رہے ہیں‘۔

ایسا لگتا ہے کہ فوج اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان لوگوں کی پریشانیاں کیا ہیں اور وہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ یہ امداد ان کے لیے کافی کیوں نہیں ہے۔ یہ لوگ زلزلے کے فوراً بعد کی ہنگامی صورتحال سے نکل چکے ہیں اور ان کی نظر اب آنے والے دنوں پر ہے۔ امداد کی تقسیم کا مسئلہ مقامی انتظامیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے پیش آ رہا ہے۔

ان علاقوں کے متاثرہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ علاقوں میں گرائی جانے والی امداد پر با اثر افراد قبضہ کر لیتے ہیں اور مستحق افراد تک یہ امداد نہیں پہنچ پاتی۔ یہ مستحق افراد بے بس ہو کر فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان افراد کے خیالات سن کر فوج کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو خوش کرنا یا مطمئن رکھنا ان کے بس کی بات نہیں۔

وادی نیلم کے باسی شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ وادی نیلم کو باہر کی دنیا سے جوڑنے والی دونوں سڑکیں اس وقت بند ہیں۔امدادی کارکن اور فوج بھی مرکزی سڑک سے زیادہ دور تک نہیں جا سکتے اور اس کی بڑی وجہ راستوں کی ٹوٹ پھوٹ ہے اور اب امدادی سامان کاندھوں پر اٹھا کر دشوار گزار راستوں سے ہی لے جایا جا سکتا ہے۔ فوج کے کیمپ نیچے سڑک کے کنارے لگے ہیں اور امداد کو اوپر دیہات تک لانے کا کام مشکل کام گاؤں والوں کے ذمے ہے۔

مظفرآباد سے وادی نیلم جانے والی سڑک کا صرف چھ کلومیٹر کا حصہ ہی قابلِ استعمال بنایا جا سکا ہے۔ انجینیرنگ کور کے جوانوں کا کہنا ہے وہ چودہ دن کی کوشش کے بعد یہ حصہ کھولنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اس سے آگے چوبیس کلومیٹر کا حصہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس تباہ شدہ حصے کو کھولنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ناما نگاروں کا کہنا ہے کہ ’ہم نے راستے میں سینکڑوں ایسے افراد کو دیکھا جو یا تو امداد کی تلاش میں مظفرآباد آ رہے تھے یا پھر امداد لے کر واپس اپنے علاقے میں جا رہے تھے۔ ایسی ہی ایک مسافر خاتون اسماء بی بی کا کہنا تھا کہ وہ وادی میں اپنے دو بچے چھوڑ کر امداد کی تلاش میں آئی تھیں مگر انہیں صرف بسکٹ کا ایک پیکٹ ملا ہے‘۔

جو لوگ گھنٹوں پیدل سفر کر کے امداد کی تلاش میں آ رہے ہیں ان میں بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد سبھی شامل ہیں۔ علاقے میں جیسے جیسے موسم خراب ہوتا جائے گا اور برف پڑے گی تو یقینی طور پر مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

66عجیب و غریب شہر
صدمے اٹھاتے اٹھاتے لوگ بے حس ہو گئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد