دیکھو بچو ہاتھی آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالا کوٹ کی ننھی سالہ کلثوم کے والد فوت ہوچکے ہیں وہ کبھی ان کی انگلی پکڑ کر ان کے ساتھ کہیں نہیں جا سکیں گی لیکن اسے ہاتھی اور اس کے بچے کے بارے میں ایک نظم اچھی طرح یاد ہے۔ دیکھو بچو ہاتھی آیا تباہ شدہ بالا کوٹ میں ننھی کلثوم نے یہ نظم مجھے لہک لہک کر سنائی۔اس دوران اس نے انگوٹھے کانوں پر رکھ کر ہاتھوں سے اشاروں کے ذریعے ہاتھی کے کان بنائے، پھر ناک پر دونوں مٹھیاں رکھ کر ہاتھی کی سونڈ بنائی۔ کلثوم کو شاید علم نہیں کہ کتنی بڑی قیامت اس پر گزر چکی ہے اور کتنے بڑے مصائب ابھی اس کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
میں اس بچی سے اس کے حالات نہیں پوچھ سکا کیونکہ یہ بچی ایک خیمہ سکول میں ملی تھی اور اس سکول کے منتظم ضیاءاحمد نے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ یہ سکول ان بچوں کو صدمہ اور تناؤ کے ماحول سے نکالنے کے لیے قائم کیا گیا ہے اس لیے یہاں کوئی ان سے حالات نہیں پوچھتا تاکہ ان کے ذہن سے برے اثرات کم ہوسکیں۔ کلثوم کی دیکھ بھال کسی حد تک ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ کر رہا ہے جس کے تحت کئی لاواث بچوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی بھی منتقل کر دیا گیا ہے ۔ بعض بچوں نے باقاعدہ بھیک مانگنا شروع کر دیا ہے اور کسی بھی نووارد کو دیکھ کر ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ بالا کوٹ شہر میں ایک ہی مقام پر سب سے زیادہ اموات والی جگہیں سکول تھے کیونکہ ہر عمارت میں سینکڑوں بچے ہلاک ہوئے۔ جناح مسلم سکول کا محض ایک حصہ گرا تو چودہ بچے اپنی استانی سمیت ہلاک ہوگئے جبکہ گورنمنٹ ہائی سکول بالا کوٹ تو تہہ بالا ہوگیا۔اس سکول کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ یہ سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا کیونکہ اس سکول کا ملبہ وہ واحد جگہ ہے جہاں بالاکوٹ میں سب سے زیادہ بدبو آرہی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ملبے کے نیچے ابھی بھی ننھے بچوں کی بے کفن لاشیں ہیں۔
اور جو چند لاشیں ملیں ان کی اجتماعی قبریں اسی سکول کی گراؤنڈ میں بنادی گئی ہے۔ جس جگہ وہ بچے کھیلا کرتے تھے آج اسی میدان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ اس تازہ قبرستان کی ایک اجتماعی قبر میں اکتالیس جبکہ دوسری میں تینتالیس بچے دفن ہیں۔اکتالیس بچوں کی اجتماعی قبر پر ٹین کا ایک بڑا سا ٹکٹرا رکھا ہے جس پر لکھا ہے: ’یہ ایک نامعلوم بچے کی قبر ہے‘ ایک اجتماعی قبر کے اوپر لکڑی گاڑ کر سکول کی سبز ٹوپی ٹانگ دی گئی ہے۔ اسی سکول کے ملبے پر مجھے ایک خاندان۔ ملا یہ لوگ ایک بچے اور اس کی ماں کو تلاش کر رہے تھے جو زلزلہ آنے کے کئی دن بعد تک نہیں مل پائے۔ بالاکوٹ کے ہائی سکول کا ایک بچہ نعمان زمان اس لیے بچ گیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہوا تو وہ چھٹی لیکر گھر چلا گیا اسی دوران سکول گرگیا اس کا بھائی بھی مرگیا اور تمام دوست بھی ہمشہ کے لیے بچھڑگئے۔ اس بچے نے اپنے بھائی اور دوستوں کی تدفین ہوتے دیکھی ہے یہ بچہ اب بھی وہیں پھرتا رہتا ہے۔
ننھی کلثوم کی نظم کے ہاتھی کے بچے کو پینے کو پانی بھی ملتا ہے اور رہنے کو اس کے پاس چڑیا گھر بھی ہے لیکن مظفرآباد سے لیکر سوات تک انسانوں کے ایسے لاتعداد بچے ہیں جنہیں نہ تو پینے کو پانی مل رہا ہے اور نہ ان کے رہنے کے لیے گھر کے نام پر ٹاٹ کا کوئی خیمہ ہے۔ | اسی بارے میں بالاکوٹ میں اجتماعی قبریں12 October, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: کھنڈر میں زندگی لوٹ آئی17 October, 2005 | پاکستان دھول اور بدبو بالاکوٹ کا مقدر18 October, 2005 | پاکستان گرلز کالج سے 125 لاشیں برآمد23 October, 2005 | پاکستان ’کم از کم دلاسہ تو دے سکتے ہیں‘30 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||