BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیکھو بچو ہاتھی آیا

بچوں کی قبریں وہیں بنانا پڑیں جہاں وہ کبھی کھیلتے تھے
بالا کوٹ کی ننھی سالہ کلثوم کے والد فوت ہوچکے ہیں وہ کبھی ان کی انگلی پکڑ کر ان کے ساتھ کہیں نہیں جا سکیں گی لیکن اسے ہاتھی اور اس کے بچے کے بارے میں ایک نظم اچھی طرح یاد ہے۔

دیکھو بچو ہاتھی آیا
ساتھ میں اپنا بچہ لایا
چھوٹی چھوٹی آنکھوں والا
لمبے لمبے کانوں والا
سونڈ سے پانی پیتا ہے
چڑیا گھر میں رہتا ہے

تباہ شدہ بالا کوٹ میں ننھی کلثوم نے یہ نظم مجھے لہک لہک کر سنائی۔اس دوران اس نے انگوٹھے کانوں پر رکھ کر ہاتھوں سے اشاروں کے ذریعے ہاتھی کے کان بنائے، پھر ناک پر دونوں مٹھیاں رکھ کر ہاتھی کی سونڈ بنائی۔

کلثوم کو شاید علم نہیں کہ کتنی بڑی قیامت اس پر گزر چکی ہے اور کتنے بڑے مصائب ابھی اس کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

سکول کے بچوں کی کتابیں اور بیگ ان کی راہ تکتے رہے

میں اس بچی سے اس کے حالات نہیں پوچھ سکا کیونکہ یہ بچی ایک خیمہ سکول میں ملی تھی اور اس سکول کے منتظم ضیاءاحمد نے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ یہ سکول ان بچوں کو صدمہ اور تناؤ کے ماحول سے نکالنے کے لیے قائم کیا گیا ہے اس لیے یہاں کوئی ان سے حالات نہیں پوچھتا تاکہ ان کے ذہن سے برے اثرات کم ہوسکیں۔

کلثوم کی دیکھ بھال کسی حد تک ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ کر رہا ہے جس کے تحت کئی لاواث بچوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی بھی منتقل کر دیا گیا ہے ۔
لیکن کئی بچے اب بھی ان شہروں میں آوارہ پھرتے یا امدادی کیمپوں کے سامنے قطار لگائے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

بعض بچوں نے باقاعدہ بھیک مانگنا شروع کر دیا ہے اور کسی بھی نووارد کو دیکھ کر ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔

بالا کوٹ شہر میں ایک ہی مقام پر سب سے زیادہ اموات والی جگہیں سکول تھے کیونکہ ہر عمارت میں سینکڑوں بچے ہلاک ہوئے۔

جناح مسلم سکول کا محض ایک حصہ گرا تو چودہ بچے اپنی استانی سمیت ہلاک ہوگئے جبکہ گورنمنٹ ہائی سکول بالا کوٹ تو تہہ بالا ہوگیا۔اس سکول کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ یہ سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا کیونکہ اس سکول کا ملبہ وہ واحد جگہ ہے جہاں بالاکوٹ میں سب سے زیادہ بدبو آرہی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ملبے کے نیچے ابھی بھی ننھے بچوں کی بے کفن لاشیں ہیں۔

نعمان کو زلزلے کے دن پیٹ کے درد نے بچا لیا

اور جو چند لاشیں ملیں ان کی اجتماعی قبریں اسی سکول کی گراؤنڈ میں بنادی گئی ہے۔ جس جگہ وہ بچے کھیلا کرتے تھے آج اسی میدان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

اس تازہ قبرستان کی ایک اجتماعی قبر میں اکتالیس جبکہ دوسری میں تینتالیس بچے دفن ہیں۔اکتالیس بچوں کی اجتماعی قبر پر ٹین کا ایک بڑا سا ٹکٹرا رکھا ہے جس پر لکھا ہے:

’یہ ایک نامعلوم بچے کی قبر ہے‘

ایک اجتماعی قبر کے اوپر لکڑی گاڑ کر سکول کی سبز ٹوپی ٹانگ دی گئی ہے۔
یہ بچے جن کی باقاعدہ تدفین کی گئی اور وہ جو ملبے تلے ہی دب کر مر گئے ان میں سے بے شمار کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی اور شائد کبھی نہیں ہو سکے گی۔

اسی سکول کے ملبے پر مجھے ایک خاندان۔ ملا یہ لوگ ایک بچے اور اس کی ماں کو تلاش کر رہے تھے جو زلزلہ آنے کے کئی دن بعد تک نہیں مل پائے۔

بالاکوٹ کے ہائی سکول کا ایک بچہ نعمان زمان اس لیے بچ گیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہوا تو وہ چھٹی لیکر گھر چلا گیا اسی دوران سکول گرگیا اس کا بھائی بھی مرگیا اور تمام دوست بھی ہمشہ کے لیے بچھڑگئے۔

اس بچے نے اپنے بھائی اور دوستوں کی تدفین ہوتے دیکھی ہے یہ بچہ اب بھی وہیں پھرتا رہتا ہے۔

خیموں میں قائم سکول

ننھی کلثوم کی نظم کے ہاتھی کے بچے کو پینے کو پانی بھی ملتا ہے اور رہنے کو اس کے پاس چڑیا گھر بھی ہے لیکن مظفرآباد سے لیکر سوات تک انسانوں کے ایسے لاتعداد بچے ہیں جنہیں نہ تو پینے کو پانی مل رہا ہے اور نہ ان کے رہنے کے لیے گھر کے نام پر ٹاٹ کا کوئی خیمہ ہے۔
اسی بارے میں
بالاکوٹ میں اجتماعی قبریں
12 October, 2005 | پاکستان
گرلز کالج سے 125 لاشیں برآمد
23 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد