کاغان: فرض شناس انسان یا فرشتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ وادی کاغان کے ایک ہیرو محکمہ ٹیلی فون کے وہ لائن مین ہیں جو اپنی بیوی ،چھ ماہ کے بھتیجے کو دفنانے اور زخمی ماں کو اپنے بھائی کے سپرد کرنے کےبعد سے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پیچ کس اور پلاس لیے پھر رہے ہیں تاکہ ان برے حالات میں بھی ٹیلی فون لائنیں چلتی رہیں۔ یہ ان کا اور ان کے چند ساتھیوں کا ہی کمال ہے کہ پورے ضلع مانسہرہ میں صرف وادی کاغان کی ایکسچینج سب سے پہلے بحال ہوئی اور تاحال چل رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب پوری وادی کاغان اور اس کے پہاڑ تباہی کاشکار ہو چکے ہیں، زمینی راستے اس طرح سے بند ہیں کہ کئی کئی ہفتے کھلنے کے امکانات نہیں ،کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو رہی ہیں، طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں، تمام سہولیات ختم ہو چکی ہیں ،بجلی کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں ہے ایسے میں کاغان کے ٹیلی فون چل رہے ہیں اور یہ کمال اس محکمہ کے ان چند اہلکاروں کا ہے جو اپنی ڈیوٹی کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ کاغان کی مرکزی شاہراہ پر محکمہ ٹیلی فون کے محمد تسلیم گرم چادر لپیٹے لمبے ڈگ بھرتے جارہے تھے جب انہیں روک کر ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون ہیں ؟اور ایسے وقت میں جب یہاں کسی کے پاس امداد کے انتظار کے سوا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے تو آخر انہیں کس کام کی جلدی ہے؟ تو انہوں نے اپنے گرد لپٹی چادر کھولی اور ایک پلاسٹک کا چھوٹا سے شاپنگ بیگ دکھایا جس میں ایک نارنجی پلاس،پیچ کس چند تاریں اور ٹیلی فون کا ریسور تھا انہوں نے بتایا کہ وہ لائن مین ہیں اور ٹیلی فون ٹھیک کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس دن زلزلہ آیا وہ آفس جانے کے لیے راستے میں تھے وہ واپس پلٹنے کی بجائے جلدی سے ایکسچینج پہنچے اور گھر فون کرکے خیریت دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے فون نہ اٹھایا۔ پریشانی کےعالم میں دوڑتے گرتے پڑتے گھر پہنچے تو راستے میں ہی لوگوں نے بتادیا کہ ان کی بیوی اور چھ ماہ کا بچہ مر چکے ہیں،گھر تباہ ہوگیا ہے ،کوئی مویشی بھی نہیں بچا اور ماں زخمی ہے۔ محمد تسلیم نے کہا کہ ان کے بھائی ملبے سے لاشیں نکال چکے تھے۔ محمد تسلیم نےانہیں چارپائی پر ڈال دیا۔ گھر تباہ تھا۔ کھلے آسمان تلے رات کو بارش ہوگئی انہوں نے ایک ٹاٹ لاشوں پر ڈال دیا اور ساری رات ان کے پاس بیٹھے رہے صبح انہوں نے قبریں کھود کر انہیں دفنایا اور پھر ڈیوٹی پر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایکسچنج پہنچے تو معلوم ہوا کہ ستر کے قریب دیہات کے ٹیلی فون خراب ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا کہ سب تو ٹھیک نہیں ہو سکتے اس لیے انہوں نے ہر گاؤں کے ایک یا دو ٹیلی فون ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگ کم از کم اپنے عزیزواقارب کی پتہ جوئی کر سکیں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد انہوں نے اس پر تیزی سے عملدرآمد شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور زلزلے کے بعد سے اب تک چھوٹے بڑے مزید جھٹکے لگ رہے ہیں جس مسلسل لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے اور بار بار تاریں ٹوٹ جاتی ہیں جو انہیں جوڑنی پڑتی ہیں۔ ابھی ان سے بات جاری تھی کہ انہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا اور کہا کہ انہیں جانے کی اجازت چاہیے کیونکہ ابھی ا نہیں بہت سا کام کر نا ہے۔ | اسی بارے میں کنٹرول لائن پر بات چیت28 October, 2005 | پاکستان فی خاندان ایک سال تک چھ ہزار29 October, 2005 | پاکستان ’متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں‘28 October, 2005 | پاکستان ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘28 October, 2005 | پاکستان بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان مظفرآباد سمیت کئی جگہ زلزلے کے جھٹکے28 October, 2005 | پاکستان ’یہیں اپنی زندگیاں دوبارہ بنائیں گے‘28 October, 2005 | پاکستان فی خاندان ایک لاکھ، ’زیادتی ہے‘28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||