’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے کو مزید پیسے نہ دیے گئے تو زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بند ہو جائیں گی۔ اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ اگر اسے پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری طور پر دو سو پچاس ملین ڈالر کی غیر ملکی نقد امداد نہ ملی تو ادارے کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اپنے آپریشن گھٹانے پڑیں گے جس میں خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے تعمیرِ نو کے لیے 30 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے کہا کہ ادارے کے چھ ہیلی کاپٹروں کو چلانے کے لیے پیسے کی بہت ضرورت ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے ہنگامی کورڈینیٹر ماییکل جونز نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کو صرف ایک ہفتے تک چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اگر ہم ان (ہیلی کاپٹروں) کو نہ چلاتے رہے تو لوگ مرنا شروع ہو جائیں گے‘۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریلیف آپریشنز کے نگران جان وینڈامورٹیل نے اسی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کس طرح سادہ انگریزی میں بتاؤں کہ صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ ہمیں دوسرا موقعہ نہیں ملے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوفناک زلزلے کے تین ہفتے گزرنے کے باوجود کئی دور افتادہ علاقوں میں بہت سے لوگ ابھی تک امداد کے شدت سے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اگلے ماہ تک ڈھائی سو ملین ڈالر درکار ہوں گے ورنہ ہم لوگوں کو موت، بیماری اور بھوک سے بچانہیں پائیں گے۔‘ انہوں نے کہا دو روز قبل جینیوا میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے منعقد کی جانے والی کانفرنس میں پانچ سو اسی ملین ڈالر کا وعدہ تو کیا گیا ہے مگر اقوام متحدہ کو نقد امداد فورا چاہیے۔ ’ہمیں نقد امداد فوری چاہیے۔ اگر یہ امداد نہ ملی تو ہم زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن گھٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس میں خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ابھی تک ہم اقوام متحدہ کے فنڈ میں سے رقوم لے رہے تھے۔ مگر اب ہمارے پاس رقم ختم ہوتی جا رہی ہے۔‘ اقوام متحدہ کے عہدیدار کے مطابق ابھی تک بین الاقوامی برادری کے طرف سے دیے گئے عطیات میں سے صرف بیس فی صد ہی وصول ہوئے ہیں۔ وینڈا مورٹیل کے مطابق وہ کس طرح بتائیں کہ صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔
’ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ ہمیں امداد کل چاہیے تھی مگر وہ آج بھی مل جائے تو کچھ زیادہ نہیں بگڑے گا۔ مگر یہ امداد اگر کل آئی تو بہت دیر ہو جائے گی۔ لاکھوں خواتین اور خصوصا بچے نمونیہ، ڈائریا اور ناکافی غذا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ہم سب کو اس طرح سوچنا چاہیے کہ اگر کسی بچے کو نمونیہ ہو جاتا ہے اور اگر وہ ہمارا بچہ ہو تو کیسا محسوس ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی کی ٹانگ کاٹنی پڑے اور ہم یہ سوچیں کہ یہ ہماری ماں کی ٹانگ ہے تو ایسے وقت میں ہم کیا کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ موقع سوچ بچار کا نہیں ہے اور نہ ہی مذید عطیات کے وعدے کرنے کا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے خوارک کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے نگران میتھیو ہالنگٹن نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے دو مزید ہیلی کاپٹر امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے کل پاکستان پہنچ جائیں گے جس کے بعد ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد آٹھ ہو جائے گی۔اس کے علاوہ بھاری فضائی امداد پہنچانے والا اقوام متحدہ کا ہیلی کاپٹر بھی کل پاکستان پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر امدادی کام کر رہے ہیں۔ہالنگٹن کے مطابق اقوام متحدہ متاثرہ علاقوں میں بذریعے ٹرک سامان پہنچا رہا ہے اور جن علاقوں کا زمینی راستہ بند ہے وہاں فضائی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے دور افتادہ علاقے تین ہفتوں میں یا زیادہ سے زیادہ چار ہفتوں میں برفباری کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو جائے گی جس کے باعث یہ اقوام متحدہ کی ترجیح ہے کہ پہلے ان علاقوں میں سامان پہنچایا جائے کیونکہ چار ہفتے بعد وہاں امدادی سامان پہنچانا تقریبا نا ممکن ہو جائے گا۔ اس موقع پر لوگوں کو خیمے فراہم کرنے والے سیکشن کے نگران کرس کے مطابق اس حوالے سے صورتحال سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایک لاکھ دس ہزار خیمے بین الاقوامی برادری کی طرف سے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ دو لاکھ خیمے مزید فراہم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پاکستانی حکومت نے مقامی طور پر ساٹھ ہزار خیمے حاصل کئے ہیں اور خیموں کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے اور مقامی پیداوار تیز کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ خیمے تمام متاثرہ علاقوں میں برفباری اور شدید سردی ہونے تک فراہم کئے جا سکیں گے۔ کرس کے مطابق ان کے خیال میں کم از کم چھ لاکھ خیموں کی ضرورت ہے اور ابھی تک فراہم کیے جانے والے خیموں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ تیس لاکھ سے زائد بے گھر ہونے والے افراد کو چھت فراہم کرنے کے لیے یہ خیمے بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیموں کی ناکافی فراہمی کے بعد امدادی ایجنسیوں نے بے گھر ہونے والے افراد کو زلزلے سے متاثرہ گھروں کی مرمت کے لئے مرمتی کٹ دینے کا کام بھی شروع کیا ہے تاکہ کچھ لوگ اپنے گھروں کو مرمت کے بعد رہنے کے قابل بنا سکیں۔ |
اسی بارے میں دیر نہ کریں: امدادی اداروں کی اپیل26 October, 2005 | پاکستان کوئٹہ: ’فرقہ واریت‘ میں ایک ہلاک26 October, 2005 | پاکستان تین لاکھ خیموں کی تیاری جاری ہے 26 October, 2005 | پاکستان جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال27 October, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد مہنگائی کا زلزلہ 27 October, 2005 | پاکستان جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||