سید اظہر حسین شاہ ایبٹ آباد |  |
 | | | پانچ سالہ تسنیم اختر |
ایبٹ آباد میں مقیم پینجگراں مظفرآباد کی رہائشی پانچ سالہ تسکین اختر ایک ٹانگ سےمحروم ہو گئی ہے۔ یہ بچی مصنوعی ٹانگ لگوانے کے لیے امدادی اداروں کی منتظر ہے۔ تسکین اختر کے والد محمد اختر نے بتایا کہ زلزلہ کے دن وہ اپنی پھوپھی کے گھرتھی جہاں زلزلے کے بعد اس کی پھوپھی نے اسے اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگنے لگی کہ تسکین اختر کی ٹانگ کسی پتھر سے ٹکرائی اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔ اس کے والد نے سمجھا کہ اب وہ نہ بچ سکے گی، وہ اپنے باقی بچوں کی طرف بھاگے، وہ بھی شدید زخمی تھے، انہیں لے کر وہ ایوب میڑیکل کمپلیکسں ایبٹ آباد روانہ ہوئے۔ تیسرے دن انہیں پتہ چلا کہ ان کی بیٹی زندہ ہے، مگر وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو چکی ہے۔ انہیں اب رہاش کا مسلۂ تھا، ان کے ساتھ ان کا 11 سالہ بچہ جنید بھی تھا مگر انہیں اپنی بیٹی کی فکر تھی۔ جب اس کی ٹانگ کاٹی جا رہی تھی وہاں آئی آر سی کی ٹیم بھی موجود تھی جنہوں نے اسے ایک ٹینٹ، کھانے پینے کا سامان اور رابطے کیلیے موباہل فون دیا۔ یہ انتیس اکتوبر کواپنے باقی تین بچوں اور بیوی کے لیے ٹینٹ اورسامان لے کر مظفرآباداپنےگاوں پنجگراں روانہ ہوئے تھے۔ مگر گاؤں کے تمام راستے بند ہیں اوران کی بیوی بچے کھلے آسمان تلےامداد کے منتظر ہیں۔ یہ لوگ پھر واپس ایبٹ آباد پہنچنے والے ہیں۔ اس حادثے میں محمد اخترکا بھائی، بہن، دو بھتیجے، دو بھانجےسمیت سات افراد جانحق ہوئے۔ محمد اختر کا تعلق مظفرآباد کےگاؤں پنجگراں سے ہےاور وہ آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں کلرک کی حثییت سے کام کر رہے تھے۔ |