’آنکھوں میں خون جم گیا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(طیبہ اقبال کا تعلق مظفرآباد کے ایک گاؤں چیلہ بانڈی سے ہے، وہ دسویں جماعت کی طالبہ ہیں وہ آٹھ اکتوبر کو زلزلے کے وقت اپنے سکول میں تھیں، طیبہ اقبال نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق کو اپنے بارے میں بتایا۔) میں اپنے سکول میں تھی اور ہماری انگریزی کی کلاس ہو رہی تھی۔ اتنا شدید زلزلہ تھا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ ہم اُس وقت کلاس میں پینتیس لڑکیاں تھیں اور تقریباً ساری کی ساری چھت کے نیچے دب گئی تھیں۔ میں کوئی دو گھنٹے ملبے کے نیچے رہی۔ سب لڑکیاں پہلے تو بہت شور کر رہی تھیں کہ مجھے نکالو مجھے نکالو۔ لیکن بعد میں آوازیں آنا بند ہو گئیں تھی۔ مجھے جب نکالا گیا بہت درد تھا، اور وہاں اُس دن تو کوئی ڈاکٹر بھی نہیں تھا اور ہسپتال بھی ٹوٹ گئے تھے۔ بڑے درد میں وہ وقت گزرا۔ دوسرے دن ہیلی کاپٹر وہاں آئے اور اُس میں ڈال کر مجھے یہاں لایا گیا، میں اکیلی تھی، پھر جب راستے کھلے تو چوتھے دن میرے گھر والے بھی آ گئے۔ راولپنڈی میں ہمارے رشتہ دار تھے وہ اگلے ہی دن جب میں ہسپتال آئی تھی میرے پاس آ گئے تھے۔ مجھے ٹھیک تو نہیں پتہ لیکن میں جس کے بارے میں بھی پوچھ رہی ہوں وہ ساری کی ساری لڑکیاں جو میری کلاس میں تھیں وہ فوت ہی ہو گئی ہیں۔ بس دو ٹیچر تھیں اُن میں سے ایک بچ گئی ہیں۔ لیکن جو ٹیچر فوت ہو گئی ہیں وہ اُس دن اپنے ایک چھوٹے سے بیٹے کو سکول لے کر آئی ہوئی تھیں۔ وہ خود فوت گئیں اوراُن کا چھوٹا بیٹا بچ گیا ہے۔ سب گھر والے مجھے بڑا حوصلہ دیتے ہیں، بس ٹھیک ہو کر گھر جانا ہے اور اپنی پڑھائی جاری رکھنی ہے۔ یہاں اب تو کیونکہ چل پھر نہیں سکتی اس لیے سارا دن لیٹی رہتی ہوں۔ اخبار تو یہاں نہیں آتا لیکن جو رشتے دار یہاں آتے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ وہاں ٹینٹ لگ رہے ہیں اور سکول بھی ٹینٹوں میں بن رہے ہیں۔ جب واپس جاؤں گی تو اپنے گاؤں کو ٹھیک طرح دیکھوں گی، کیونکہ زلزلے کے بعد تو بس کسی چیزکا پتہ ہی نہیں لگ رہا تھا۔ |
اسی بارے میں بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان آخر کتنے پہنچ پائیں گے28 October, 2005 | پاکستان خطرناک زون کا نئے سرے سے تعین28 October, 2005 | پاکستان ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان دیکھو بچو ہاتھی آیا30 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||