آپکی صحافت: چوبیسں گھنٹوں میں قابو پانے کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب ہم جمعہ کو ناران پہنچے تو پتا چلا کہ ناران اور اس کے ارد گرد کے گاؤں کی مجموعی 2800 کی آبادی میں سے 480 افراد تو زلزلے میں ہلاک ہوگئے جب کہ اب تک انیس افراد جو کہ زخمی ہو گئے تھے وہ بھی دم توڑ گئے۔ ان انیس افراد میں دو عورتیں بھی شامل تھیں جو حاملہ تھیں۔ ان دونوں عورتوں کی اموات ہمارے سامنے ہوئی اور دونوں کی موت کا سبب بظاہر ڈاکٹروں اور طبی امداد کی کمی تھی کیونکہ دونوں عورتوں کے بچے ان کے پیٹ میں مر گئے جس کے بعد زہر ان کے جسم میں پھیل گیا اور وہ مرگئیں۔ زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے شامل تھے۔
جہاں تک امداد کا تعلق ہے اب تک ناران کے علاقے میں اکیس خیمے دیئے جا چکے ہیں۔ یہ خیمے فی گھرانہ نہیں دیئے جاتے۔ مثلاً اکیس میں سے تیرہ خیمے عورتوں اور بچوں کے لیے مختص ہیں اور مردوں کے پاس ایک خیمہ ہے۔ لوگ ان خیموں میں ٹھنسے ہوئے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بیماریوں نے متعدی بیماریوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بوڑھوں اور بچوں میں نمونیہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی کی قلت کی وجہ سے کئی ایک بچے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ حکومت علاقے میں کام کرتی نظر آتی ہے لیکن لگتا ہے ان کی کوششیش ناکافی ہیں۔ ناران اور کاغان کو ملانے والی سڑک کو کئی مرتبہ کھولا گیا لیکن یہ راستہ باربار لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہو جاتا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اب بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ کل ساری رات جھٹکے آتے رہے۔ ناران سے ہم شاندران پہنچے۔ اس علاقے میں آبادی دس سے پندرہ گھروں پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پہاڑی دیہاتوں پر مشتمل ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ تھی کیونکہ ان میں سے زیادہ تر گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ 500 کی آبادی میں سے تقریباً نصف زلزلے میں ہلاک ہو گئی ہے جبکہ علاقے میں اس وقت بھی زلزلے میں زخمی ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ فوجی ڈاکٹر جو اپنے عملے سے سترہ دیگر افراد کے ساتھ یہاں موجود ہیں انہوں نے بتایا کہ شدید زخمی افراد کی تعداد 98 ہے۔ ان زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے لیکن دواؤں کی شدید کمی ہے۔ زخمیوں کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ یہ علاقہ خاصی شدید سردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور رات کے وقت درجہ حرارت صفر سے نیچے چلا جاتا ہے۔ اب تک 36 زخمی مر چکے ہیں جو کہ زیادہ تر نمونیہ اور پیٹ کی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔
لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی پاس خیموں، بچوں کے لیےدودھ، جلانے کے لیے لکڑی اور گرم کپڑوں کی شدید کمی ہے۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہے جن سے ہم مل پائے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے دیہاتوں اور چھوٹی بستیوں کا پتا چلا جہاں تک شاید ابھی تک رسائی نہیں ہو پائی۔ علاقے میں موجود فوج کی امدادی ٹیمیں بھی سیارے سے لی ہوئی تصویروں کی مدد سے متاثر ہونے والی بستیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں امدادی سامان خچروں پر لاد کر لایا جاتا ہے لیکن اس کی مقداد اتنی کم ہوتی ہے کہ سارا سامان پل بھر میں ختم ہو جاتا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ہم یہ بات بھول رہے ہیں کہ متاثرین کئی دنوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو لیے امداد کا انتظار کرتے رہے ہیں۔ اور اب اشیاء پہنچ رہی ہیں تو ان کی مقدار بہت کم لگتی ہے۔ علاقے میں چوری کی وارداتیں بھی بڑہ چکی ہیں۔
ہم جب بالاکوٹ سے ناران آ رہے تھے تو راستے میں ہمیں لوٹ لیا گیا۔ کلاشنکوف اور بندوقوں سے مسلح تقریباً پندرہ افراد نے ہمیں سڑک پر روکا اور ہم سے ہمارے دو لیپ ٹاپ کمپیوٹر، چار موبائل فون نقدی اور دوائیں چھین لیں۔ یہ لوگ اپنے لب ولہجے سے مقامی لوگ نہیں لگ رہے تھے۔ مقامی لوگ بیچارے اتنے پریشان حال ہیں کہ وہ تو بول ہی نہیں پا رہے۔ دوسرے دن ہم نے وہاں پر فوجی ٹیم کے انچارج کیپٹن اظہر کو یہ واقعہ بتایا تو انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اور ان کی ٹیم چوبیسں گھنٹوں میں اس پر قابو پا لے گی۔ میں گذشتہ سال ناران اور کاغان سیر کے لیے آیا تھا۔ آج جب میں اور میرے دوست دوبارہ یہاں آئے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جو خوبصورتی ہمیں گذشتہ سال دیکھنے کو ملی تھی وہ اب نجانے کہاں کھوچکی۔ نوٹ: سید عدنان علی کے اپنے خاندان میں تین عزیز اس زلزلے کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن اس دوران لوگوں کی حالت دیکھ کر انہوں نے امدادی ٹیم کے ساتھ جاکر متاثرہ علاقوں میں کام کی ٹھانی اور اب وہاں سے ہمارے لئے لکھ رہے ہیں۔ اگر آپ ان کی کہانی پڑھنا چاہیں تو یہاں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||