BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کاموں میں افراتفری
کئی متاثرین ابھی تک امدادی سامان سے محروم ہیں
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کو تین ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کیے جانے والے امدادی کام میں وہ نظم و ضبط نظر نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق امدادی کاموں کو بے یقینی اور افراتفری پہلے دن نظر آرہی تھی وہ اب بھی عیاں ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امدادی کام کو کنٹرول کرنے والے ادارے فوج اور سول انتظامیہ کے مابین رابطے کا فقدان ہے۔

’سول انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کا کہنا ہے کہ امدادی کام پر فوج کا قبضہ ہے اور ان پر اس کسی طرح کا اختیار نہیں ہے۔‘

نامہ نگار کے مطابق زلزلہ زدگان کے لیے ہونے والے امدادی کام کی اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی امدادی ادارے اور غیر ملکی ماہرین ریلیف آپریشن پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے اگر بروقت امداد نہ پہنچی تو مزید اموات ہوں گی جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت ’سب اچھا ہے‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔

نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ امدادی کام کے سلسلے میں ان کی حکومت کی بدنامی نہ ہو۔

’اس کوشش میں وہ اصل مسائل سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔‘

66فوج اہم ہے مگر- - -
’کمانڈ اور کنٹرول سے مسائل بڑھ بھی جاتے ہیں‘
66امداد میں دیری۔۔۔
باغ اور راولاکوٹ: صرف پچیس فیصد خیمے تقیسم
66’ابھی یا کبھی نہیں‘
زلزلے کے متاثرین کے لیے فوری امدادی چاہیے
66جائیں تو جائیں کہاں
الائی والے جغرافیائی و انتظامی مسائل کا شکار
66سترہ ہزار بچے ہلاک
زلزلہ: 17000 بچے فوت ہوگئے ہیں: یونیسف
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد