 | | | کئی متاثرین ابھی تک امدادی سامان سے محروم ہیں |
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کو تین ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کیے جانے والے امدادی کام میں وہ نظم و ضبط نظر نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق امدادی کاموں کو بے یقینی اور افراتفری پہلے دن نظر آرہی تھی وہ اب بھی عیاں ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امدادی کام کو کنٹرول کرنے والے ادارے فوج اور سول انتظامیہ کے مابین رابطے کا فقدان ہے۔ ’سول انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کا کہنا ہے کہ امدادی کام پر فوج کا قبضہ ہے اور ان پر اس کسی طرح کا اختیار نہیں ہے۔‘ نامہ نگار کے مطابق زلزلہ زدگان کے لیے ہونے والے امدادی کام کی اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی امدادی ادارے اور غیر ملکی ماہرین ریلیف آپریشن پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے اگر بروقت امداد نہ پہنچی تو مزید اموات ہوں گی جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت ’سب اچھا ہے‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ امدادی کام کے سلسلے میں ان کی حکومت کی بدنامی نہ ہو۔ ’اس کوشش میں وہ اصل مسائل سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔‘ |