فوج کی اہمیت سے انکار نہیں مگر- - - | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ علاقوں میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم پتن کے نیشنل فیلڈ کوآرڈینیٹر عبدالصبور کا کہنا ہے کہ سول انتظامیہ اور متاثرین کو شامل کیئے بغیر ریلیف اور بحالی کے کام میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ان کے ’ کمانڈ اور کنٹرول ‘ کے طریقہ کار سے بعض اوقات مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ جاتے ہیں اور شاید اسی لیئے متاثرین کی خاصی تعداد مایوسی کے عالم میں فوج کے خلاف شکایتیں کرتی نظر آتی ہے۔ عبدالصبور کا کہنا تھا کہ زلزلے کے ابتدائی دنوں میں چونکہ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ خود صدمے میں تھی تو اس لیئے فوج کو ان ہنگامی حالات میں کنٹرول سنبھالنا پڑا لیکن جیسا کہ اب یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ تباہ شدہ علاقوں میں بحالی کا کام ہفتوں، مہینوں نہیں بلکہ سالوں تک جاری رہے گا تو فوج اور متاثرین دونوں کے لیئے یہ بہتر ہو گا کہ کشمیر میں سول انتظامیہ اور سرحد کے متاثرہ علاقوں میں بلدیاتی نمائندے معاملات سنبھال لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام کے تحت قدرتی آفتوں سے نمٹنا اب ضلعی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔انہوں نےتجویز دی کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں متاثرین کی کمیٹیاں بنائی جانی چاہیں جو امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ریلیف کے سامان کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔ عبدالصبور کا کہنا تھا کہ اس طرح متاثرین زلزلہ کو صدمے کی کیفیت میں سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تقریباً ہر جگہ فوج کی طرف سے رابطہ افسر مقرر کیئے گئے ہیں جو بعض اوقات مشورہ تو سن لیتے ہیں اور اتفاق بھی کرتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انتظام بہتر ہو سکتا ہے لیکن عملی طور وہ وہی کرتے ہیں جس کی اوپر سے ہدایت ہوتی ہے۔ عبدالصبور نے بتایا کہ زلزلے کے بعد کے ابتدائی دنوں کی نسبت آفت زدہ علاقوں میں ملک بھر سے رضاکاروں کی آمد میں اب خاصی کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور پہلے سے موجود مددگار بھی واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں جس کی ایک وجہ عید کی آمد بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ صورتحال ایک لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے رضا کاروں کی اشد ضرورت پڑے گی۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں رضاکاروں کی رجسٹریشن کا کام فوری طور پر شروع کردیا جانا چاہیےتاکہ ان کی درجہ بندی کرکے ان سے اس انداز میں کام لیا جائے کہ نا تو ان کے جذبے ماند پڑیں اور نا ہی انہیں بے مقصد تھکایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی انداز میں کام کرنا پڑے گا۔ عبدالصبور کا کہنا تھا کہ خواتین رضاکار بہت کم تعداد میں متاثرہ علاقوں میں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ عورتوں اور بچوں کی دیکھ بھال خصوصاً انہیں ذہنی صدمے سےنکالنے میں خواتین کارکن زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کی ضروریات کی چیزیں بھی امدادی سامان میں بہت کم نظر آتی ہیں۔ عبدالصبور آفت زدہ آبادیوں کے ساتھ بحالی کے کام کرنے کا کافی تجربہ رکھتے ہیں اور ان کا ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کی واحد نوبل انعام یافتہ شخصیت عالمی شہرت یافتہ طبعیات دان مرحوم ڈاکٹر عبدالسلام کے بھتیجے ہیں۔ اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقامی اداروں میں فوج کے بعد زلزلہ زدہ علاقوں میں سب سے مؤثر کردار جہادی تنظیمیں سر انجام دے رہی ہیں جبکہ ایم کیو ایم، ایدھی اور جماعت اسلامی کانمبر ان کے بعد آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ فوج کے بعد جہادی تنظیموں کے کارکن ہی متاثرہ علاقوں کے دشوار گذار راستوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ |
اسی بارے میں صورت حال سونامی سے بدتر08 October, 2005 | منظر نامہ ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان ’امداد نہ ملی تو آپریشن محدود‘28 October, 2005 | پاکستان ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||