آلائی کا المیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الائی کے اس المیے میں جہاں قدرت کی جانب سے آنے والی آفت کا ہاتھ ہے وہیں اس کے جغرافیائی اور انتظامی مسائل اس مصیبت میں اضافے کا باعث ہیں۔ 1992 میں بٹگرام کو مانسہرہ سے الگ کر کے ضلع کا درجہ دیا گیا اور الائی کو اس کی تحصیل بنا دیا گیا۔ لیکن کم وسائل کی وجہ سے الائی میں اکثر مکمل تحصیل انتظامیہ موجود نہیں ہوتی بلکہ بٹگرام کی انتظامیہ کے پاس ہی الائی کی اضافی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وادیِ الائی مانسہرہ سے تقریباً ساڑھے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ دریائے سندھ کے تھاہ کوٹ پل سے ایک کچا اور دشوار گزار رستہ الائی جاتا ہے جس پر عام حالات میں جیپ کے ذریعے تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ یہ رستہ صرف بنہ تک جاتا ہے جو الائی کا ہیڈکوارٹر ہے۔ بنہ کے علاوہ ہزاروں مربع میل پر پھیلی ہوئی وادی کے بیشتر مقامات تک جانے کے لئے کوئی قابلِ ذکر رستہ موجود نہیں ہے۔ اس علاقے میں بڑے گاؤں بہت کم ہیں اور زیادہ تر آبادی دور دراز کے پہاڑوں میں پھیلی ہوئی ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے عام حالات میں کئی دنوں کا پیدل سفر درکار ہوتا ہے۔ اب جب کہ پہاڑوں کی ٹوٹ پھوٹ اور لینڈ سلائڈنگ کے باعث یہ رستے بھی بند ہو چکے ہیں، ان دور افتادہ علاقوں تک پہنچنا عملاً بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ عام حالات میں بھی یہ سفر مقامی لوگوں کے بغیر کرنا ممکن نہیں۔ لیکن اب چونکہ مقامی لوگ اپنے تباہ حال گھرانوں اور افراد کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، امدادی ٹیموں کا ان دیکھے رستوں پر جانا بذاتِ خود بہت خطرناک ہے۔ ڈسٹرک آفیسر ریونیو بٹگرام سبحان اللہ نے بتایا کہ ’لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ بنہ تک سڑک ملائشین اور جاپانی ٹیموں کی مدد سے کھول دی گئی ہے لیکن اس تنگ سڑک پر بڑی گاڑیاں اور ٹرک نہیں جا سکتے اس لیے امدادی سامان کی ترسیل میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ بٹگرام اور الائی کی تقریباً تمام سرکاری عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ بٹگرام کا سول ہسپتال بھی گر گیا ہے اور زخمیوں کو طبی امداد دینے میں بہت مشکل ہو رہی ہے۔ تحصیلدار بٹگرام عبدالغفار نے بتایا کہ وہ خود زلزلے میں زخمی ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ اپنے بھائیوں کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔ تمام ضلعی انتظامیہ ایک لان میں ٹینٹ لگا کر امداد اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔ ٹیلیفون کا رابطہ بھی کئی دنوں کے بعد بحال ہوا ہے لیکن اب بھی لائنیں نا قابلِ اعتبار ہیں۔ اس وقت تک کم از کم چار سے پانچ ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ تحصیلدار الائی سعیدالرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ گنگوال، راشنگ اور چھور میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بٹگرام سے پٹواری اور دوسرے سرکاری اہلکار بھی الائی پہنچ چکے ہیں۔ لیکن وادی کے طول و عرض کی مناسبت سے ان کی تعداد اور وسائل بالکل نا کافی ہیں۔ انہوں نے الائی کے لوگوں کے المیے کے بارے میں کہا ’چند گھر بچے ہیں لیکن لوگوں کی یہ حالت ہے کہ نہ گھروں میں بیٹھ سکتے ہیں اور نہ باہر نکل سکتے ہیں کیونکہ مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے گھروں میں ملبے تلے دب جانے کا خطرہ ہے اور باہر نکلنے پر پہاڑوں سے پتھروں اور مٹی کے تودوں کی بارش کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پیدل رستے بھی بند ہیں، ان میں بعض جگہ بڑے بڑے پتھر پڑے ہوئے ہیں جنہیں ہٹانا بہت مشکل ہے اور بعض جگہوں پر نرم مٹی ہے جسے پار کرنا ناممکن ہے۔ ان حالات میں سامان کندھوں پر اٹھا کر چلنا یا محدود تعداد میں موجود جانوروں کی پیٹھ پر لاد کر لے جانابہت دشوار ہے۔ ایسے حالات میں بارش، برفباری اور بڑھتی ہوئی سردی نے لوگوں کے مسائل اور امدادی کام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ وادیِ الائی کی مشہور چراہ گاہ چھور جو تقریباً 900 مربع میل پر محیط ہے، باقی دنیا سے کٹی ہوئی ہے۔ چھور کا علاقہ بہت اونچے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ عام حالات میں گھوڑوں اور خچروں پر بنہ سے ایک دن کی مسافت پر چھور کے علاقے میں داخل ہوا جا سکتا ہے لیکن ان دنوں رستوں کی بندش کی وجہ سے وہاں پہنچنا تقریباً نا ممکن نظر آتا ہے۔ چھور کی چراہ گاہ مشرق میں دریائے کنہار اور مغرب میں دریائے سندھ کے درمیان واقع ہے جبکہ شمال میں ضلع کوہستان ہے۔ چاروں طرف سے دشوار گزار چوٹیوں کے باعث بیرونی دنیا سے کٹی ہوئی یہ چراہ گاہ موسمِ گرما میں آباد ہوتی ہے اور یہاں چرواہے کشمیر، افغانستان، شمالی علاقہ جات اور شمالی پنجاب سے جا بستے ہیں اور یوں سینکڑوں عارضی آبادیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں یہ لوگ نیچے کی طرف ہجرت کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد شدید سردی کے باعث یہاں رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں چھور کے علاقے میں پھنسے ہوے لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں اور وہاں برفباری شروع ہو چکی ہے۔ آلائی کی قدیم روایات کے باعث لوگ اپنا گھر بار اور علاقہ چھوڑ کر کہیں جانے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ یہاں کے پسماندہ لوگ خواتین کو علاج معالجے کےلئے لے جانے سے بھی جھجکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر ڈاکٹر مرد ہیں۔ تاہم اس آفت کی گھڑی میں انہیں مدد کا شدت سے انتظار ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی اس علاقے میں امدادی آپریشن شروع کر دیا ہے اور لوگوں کو دور دراز کے علاقوں سے بنہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ علاقہ چونکہ پاکستان کی دفاعی لائن کے قریب نہیں ہے اور نہ ہی اس کے رستے میں ہے، اس لئے اس علاقے کے بارے میں فوج کی معلومات بھی محدود ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود وسائل اور مسائل کا عدم توازن بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔ | اسی بارے میں الائی کا کیا ہوگا؟25 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں25 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان الائی میں بھی لوگ حکومت پر برہم19 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||