BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 November, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرکاری اعدادوشمار: کنفیوژن کیوں؟


پاکستان میں تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے تین ہفتے بعد جہاں ابھی تک ہر قدم پر مکمل تباہی دیکھنے میں آرہی ہے وہاں خود پاکستانی حکومت کی کارکردگی میں بھی ایک بڑے پیمانے پر بدنظمی اور متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

اطلاعات کے بعد ابھی تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہِ سرحد میں اکتالیس گاؤں ایسے ہیں جہاں تک امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہوپائی۔ دوسری طرف جہاں وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے یکم نومبر کو قومی اسمبلی کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستاون ہزار بتائی تھی، اس سے اگلے ہی دن ریلیف کمشنر کے مطابق یہ تعداد تہتر ہزار ہے اور اس تعداد میں اچانک اضافے کی کوئی وجہ نہیں بیان کی گئی۔

پھر بارہا سرکاری بیانات میں امدادی کاروائیوں پر اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور صدر پرویز مشرف نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں فوج سمیت کئی اداروں کو اس سلسلے میں خراجِ تحسین بھی پیش کیا تھا۔

آخر زلزلے کے سلسلے میں سرکاری بیانات میں اس قدر کنفیوژن کیوں ہے؟ کیا پاکستانی حکومت نے اس دوران ضرورت سے زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے؟ کیا امدادی کاروائیاں تسلی بخش ہیں؟ کیا پاکستانی حکومت عالمی برادری کو اتنی بڑی آفت پر بروقت متوجہ کرنے میں کامیاب رہی؟ حکومتی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


خلیل احمد راجپوت، پاکستان:
میرے خیال میں ہمارے صدر نے اب تک بہت اچھا کام کیا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے ہیں۔ میرے خیال میں اگر مشرف نہیں ہوتے تو جتنی بین الاقوامی امداد ملی وہ بھی نہیں ملتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ متاثرین کے لیے صرف پچیں ہزار کی رقم بہت کم ہے۔ اسے بڑھانا چاہیے۔

عبدل منیب، جرمنی:
میری رائے تو آپ چھاپتے ہی نہیں، مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے وزیر خبریات صرف تین ماہ کے لیے اپنے بیان دینا بند کر دیں، تو امید ہے لوگوں کا حکومت اور حالات پر اعتماد بحال ہو جائے گا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
اتنا بڑا سانحہ ہوا، کتنے ہی دن ہوئے ہیں اور کرپشن اور سیاسی بیانات شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے جنرل، سیاست دان اور نوکرشاہی، اب اجتماعی طور پر بندر بانٹ کریں گے۔۔۔

مسعود عالم، سعودی عرب:
وطن عزیز شاید اتنے بڑے سانحہ سے کبھی دو چار نہیں ہوگا۔ قوم کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ لیکن بد قسمتی سے حکومت کی نااہلی اور کارکردگی سے یہ بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ وزیر فوٹو سیشن کے چکروں سے ہی نہیں نکل رہے اور فارغ ہوتے ہیں تو صدر صاحب کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہو جاتے ہی۔

عارف قریشی، ٹانڈو محمد خان، پاکستان:
بی بی سی یا دوسرے نشریاتی ادارے پہلے ہی بتا چکے تھے کہ نقصان بہت ہوا ہے، لیکن حکومت پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر میرے خیال میں کوئی اعتبار نہیں کرتا۔۔۔

اینی سیدہ، کراچی، پاکستان:
حکومت نے کبھی شہریوں کے دکھ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اچھے دنوں میں ہی یہ ہم سے غافل تھے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی کشمیریوں کو بچانے میں ناکام رہے ہیں۔

سعید صدیقی، دبئی:
ہم ہمیشہ حکومت کو ہی کیوں قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ غلطی ہماری اپنی بھی تو ہوتی ہے۔ہم حکومت کو اپنے خاندان والوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں دیتے، رجسٹریشن کے قواعد کو نظرانداز کرتے ہیں، حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، تو یہ مسئلہ حل کیسے ہوگا؟ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ ہم اگر صرف حکومت پر تنقید ہی کرتے رہیں گے تو اس کا مقابلہ کیسے ہوگا؟ یہ وقت مل کر کام کرنے کا ہے۔

ٹی بیگ، کینیڈا:
پاکستان کی کسی بھی حکومت نے آج تک زندوں کی تعداد صحیح نہیں بتائی تو ان بےچاروں کا کیا شمار جو اب اس دنیا میں نہیں۔۔۔

ابراہیم ملک، ملتان، پاکستان:
حکومتی کنفیوزن کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب حکومتی ترجمان پچیس ہزار ہلاکتوں کا دعوی کر رہے تھے تو عبدالستار ایدھی نے حکومتی دعوی کو جھٹلاتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت تک پچاس ہزار جانبحق ہونے والوں کو تو ہم دفنا چکے ہیں۔ باقی ہلاکتیں اس کے علاوہ نہ جانے کتنی ہوں گی۔ لیکن جب احساس ذمہ داری ہی ختم ہوجائے تو۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
حکومت پاکستان اور یو این او اور این جی اوز کے بیانات میں بہت تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف امداد کا رونا رویا جا رہا ہے اور دوسری طرف دفاعی بجٹ میں کمی بھی نہیں کی جا رہی۔

لیاقت علی خان، پاکستان:
میں نے پہلے بھی بی بی سی کو لکھ کر بھیجا تھا کہ کوفی عنان کہتے ہیں کہ امداد ناکافی ہے مگر شوکت عزیز بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کر ہےہیں۔ بالکل یہی ہوا۔ ہماری حکومت بس یہی کر رہی ہے۔ یہ اب تک اس سانحہ کی شدت کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔ شاید انہیں اور امداد کی ضرورت نہیں۔ صدر صاحب اور وزیر اعظم کو استعفی دے دینا چاہیے۔

عطاالرحمٰن، راولپنڈی، پاکستان:
پاکستانی حکومت اور فوج کے ساتھ عوام بھی اچھا کام کر رہے ہیں۔ علاقہ دور ہونے کی وجہ سے مشکلات ہو رہی ہیں مگر حکومت اور فوج کے کام میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کر رہے ہیں۔

شفیق پرویز، اٹک، پاکستان:
حکومت پہلے دن سے کنفیوز نظر آ رہی ہے اس لئے وقت پر کچھ نہ کر سکی۔ آج 23 دن گزر جانے کے باوجود لوگ روتے نظر آتے ہیں۔ بیرونی امداد بھی وقت پر نہیں مانگی گئی۔

آصف محمود، لاہور، پاکستان:
میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت کے ناقص کنٹرول کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ کیونکہ فوجی اور جنرل مشرف کے بھوت نے لوگوں کو بہت ڈرا یا ہوا ہے وہ ان کے سامنے بادشاہ ننگا ہے کہتے ہوئےڈرتے ہیں۔ مزید یہ کہ سول حکومت نام کی کوئی چیز زلزلہ زدہ علاقوں میں نظر نہیں آتی۔ ان کو صرف بین الاقوامی امداد مانگنے کی بجائے لوگوں کو برف باری سے پہلے منتقل کرنا چاہئے۔

جاوید اقبال، بیلجیم:
ہم بی بی سی کے ذریعے روزانہ حکومت اور این جی اوز کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابھی بھی بہت سے ایسے گاؤں ہیں جہاں امداد نام کی کوئی چیز نہیں پہنچی۔ کل شوکت عزیز کا بیان تھا کہ 50000 ہلاکتیں ہوئی ہیں آج 73000 کہہ رہے ہیں لیکن ہم نے اپنے لوگوں سے رابطہ کیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک صحیح صورتحال کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ امدادی کاموں میں تنظیم اور رابطے کا فقدان ہے۔

عبدالکریم، راولپنڈی، پاکستان:
عوام ہی مری، عوام نے ہی دفن کیا، عوام ہی روتی رہی، عوام ہی کو دھکے دیے گئے، عوام ہی فوج کے ہاتھ پٹی، عوام ہی لٹی عوام کے ہاتھ۔۔۔۔۔۔ اب دیکھیں، فوج نے چھینا پاکستان، فوج کی ہی حکومت، فوج کے ہی ادارے، فوج ہی کی مرضی، فوج کے قبضے میں سب امداد، فوج ہی بانٹے گی، فوج ہی کھائے گی، فوج ہی کا نام روشن ہو گا، فوج ہی کو خراجِ تحسین۔ تو جناب کیا آج تک فوج یا حکومت نے اپنی غلطی مانی ہے؟

اویس عثمان، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پاکستان:
میری رائے کے مطابق پہلے تو امدادی کام تیزی سے ہو رہے تھے مگر اب یہ حال ہے کہ جہاں دیکھو جوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ اور حکومت صرف باتیں بنا رہی ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی، یو اے ای:
سرکار ہی کنفیوز ہے تو ابہام تو ہو گا ناں، ہم لوگ کبھی بھی کسی طرح کے حالات کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے، ان حالات کے لئے بھی جن کا پہلے سے تھوڑا بہت علم ہویہ تو نا گہانی اور آسمانی آفت تھی جس کے لئے نہ کوئی ذہنی طور پر تیار ہوتا ہےاور نہ ہی اس کے مقابلے کے لئے احتیاطی تدابیر کی جاتی ہیں۔ اس وقت کوئی اور بات نہیں، ہماری حکومت بوکھلا گئی ہے اور اتنے بڑے حادثے کے لئے جو کچھ کیا جانا چاہئےاس کے لئے کچھ بھی نہیں کر پا رہی۔۔۔۔۔

66یہی اُن کی عید ہے
’امی، ابو کہتے ہیں شکر ہے کہ میں بچ گئی‘
66’انتظار۔۔۔انتظار‘
عدنان کی ڈائری:’رات کسی طرح کٹ جائے‘
66اس کا کوئی پتہ نہیں
’کس کو بتاؤں، انتظار بہت مشکل چیز ہے ‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد