مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں عمر کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ اب وہ لاہور میں زیرِ علاج ہے۔ |
پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تہتر ہزار دو سو چھہتر ہو گئی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں اکتالیس گاؤں ایسے ہیں جہاں تک زلزلے سے تین ہفتے گزر جانے کے باوجود امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ستاون ہزار بتائی تھی مگر وفاقی ریلیف کمشنر کی طرف سے اس تعداد میں یکدم اضافے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائی کے انچارج وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے اکتیس اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دس گاؤں ایسے ہیں جہاں سڑکوں کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ وفاقی ریلیف کمشنر نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اکتیس خیمہ بستیاں بنائی گئی ہیں جہاں سترہ ہزار نو سو افراد کو عارضی چھت فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ صوبہ سرحد میں ستائیس خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں جہاں اٹھارہ ہزار تئیس افراد کو پناہ دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی برادری نے ابھی تک دو بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ |