امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صفحہ ہستی سے تقریباً مٹ جانے والے بالا کوٹ شہر کے بچ جانے والے کئی لوگوں کو شکایت ہے کہ ان تک امدادی سامان ابھی تک نہیں پہنچ پایا۔ خیمے اور کمبل ہر کسی تک نہیں پہنچ پائے اور لوگ امداد کے حصول میں مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں۔ محلہ خواجہ خیلی کے تاج اکبر نے بتایا کہ اس کا خاندان تیرہ افراد پر مشتمل ہے لیکن انہیں ابھی تک خیمہ نہیں ملا۔ تاج نے بتایا کہ خیمے کے لیے ملنے والی پرچی وہ کئی دنوں سے لیے پھر رہا ہے لیکن کامیابی نہیں ہو پا رہی۔ حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ فلاحی تنظیموں نے امدادی سامان کی شاید بہتر تقسیم کار کے لیے ’پرچی‘ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ متعدد تنطیمیں اپنے کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھیجتی ہیں جو لوگوں کی ضرورت کا اندازہ کرکے انہیں اس کے مطابق پرچی جاری کر دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کو حصول امداد کے لیے وہ پرچی لے کر تنظیم کے کیمپ میں آنا پڑتا ہے۔ اسی طرح فوج سے امداد لینے کے لیے پہلے بریگیڈ میجر سے پرچی بنوانا پڑتی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پرچیاں جاری کرنے والے پہلے تو ملتے نہیں اور اگر مل جائیں تو ان کا رویہ خاصہ حاکمانہ ہوتا ہے جو کہ ایک عزت نفس رکھنے والے آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بارے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان کی امدادی کاروائیاں صرف اپنے کارکنوں، ووٹروں اور ان کے خاندانوں تک محدود ہیں۔ علاقے کے لوگ ایک تنظیم پر الزام لگاتے ہیں کہ اس تنظیم والوں نے ایک بہت منظم خیمہ بستی قائم تو کی ہے لیکن مبینہ طور پر اس میں صرف اپنے ’ کارکنوں‘ کو ہی بسایا گیا ہے۔ الخدمت فاونڈیشن کی پشاور شاخ کے سربراہ ڈاکٹر اقبال خلیل کا کہنا ہے کہ ’جسے مل جائے وہ تعریف کرتا ہے اور جو رہ جائے وہ گالی دیتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ آج ہی ایک گاؤں ست بنی کے لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے حالانکہ وہاں ان کا کوئی ووٹر بھی نہیں۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ایک مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکن امداد دینے سے پہلے مسلک کا ضرور پوچھتے ہیں اور ہم خیال ہونے پر ہی مدد ملتی ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان ’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘06 November, 2005 | پاکستان ’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ 05 November, 2005 | پاکستان امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ05 November, 2005 | پاکستان بالاکوٹ کی سوگوار عید04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||