BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے

تاج اکبر
تاج اکبر ریلیف پرچی کے ہمراہ
صفحہ ہستی سے تقریباً مٹ جانے والے بالا کوٹ شہر کے بچ جانے والے کئی لوگوں کو شکایت ہے کہ ان تک امدادی سامان ابھی تک نہیں پہنچ پایا۔

خیمے اور کمبل ہر کسی تک نہیں پہنچ پائے اور لوگ امداد کے حصول میں مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں۔ محلہ خواجہ خیلی کے تاج اکبر نے بتایا کہ اس کا خاندان تیرہ افراد پر مشتمل ہے لیکن انہیں ابھی تک خیمہ نہیں ملا۔ تاج نے بتایا کہ خیمے کے لیے ملنے والی پرچی وہ کئی دنوں سے لیے پھر رہا ہے لیکن کامیابی نہیں ہو پا رہی۔

حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ فلاحی تنظیموں نے امدادی سامان کی شاید بہتر تقسیم کار کے لیے ’پرچی‘ سسٹم متعارف کرایا ہے۔

 جسے مل جائے وہ تعریف کرتا ہے اور جو رہ جائے وہ گالی دیتا ہے
ڈاکٹر اقبال خلیل، الخدمت فاؤنڈیشن

متعدد تنطیمیں اپنے کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھیجتی ہیں جو لوگوں کی ضرورت کا اندازہ کرکے انہیں اس کے مطابق پرچی جاری کر دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کو حصول امداد کے لیے وہ پرچی لے کر تنظیم کے کیمپ میں آنا پڑتا ہے۔ اسی طرح فوج سے امداد لینے کے لیے پہلے بریگیڈ میجر سے پرچی بنوانا پڑتی ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ پرچیاں جاری کرنے والے پہلے تو ملتے نہیں اور اگر مل جائیں تو ان کا رویہ خاصہ حاکمانہ ہوتا ہے جو کہ ایک عزت نفس رکھنے والے آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے بارے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان کی امدادی کاروائیاں صرف اپنے کارکنوں، ووٹروں اور ان کے خاندانوں تک محدود ہیں۔ علاقے کے لوگ ایک تنظیم پر الزام لگاتے ہیں کہ اس تنظیم والوں نے ایک بہت منظم خیمہ بستی قائم تو کی ہے لیکن مبینہ طور پر اس میں صرف اپنے ’ کارکنوں‘ کو ہی بسایا گیا ہے۔

 پرچی جاری کرنے والے پہلے تو ملتے نہیں اور اگر مل جائیں تو ان کا رویہ خاصہ حاکمانہ ہوتا ہے جو کہ ایک عزت نفس رکھنے والے آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

الخدمت فاونڈیشن کی پشاور شاخ کے سربراہ ڈاکٹر اقبال خلیل کا کہنا ہے کہ ’جسے مل جائے وہ تعریف کرتا ہے اور جو رہ جائے وہ گالی دیتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ آج ہی ایک گاؤں ست بنی کے لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے حالانکہ وہاں ان کا کوئی ووٹر بھی نہیں۔

کچھ لوگوں نے بتایا کہ ایک مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکن امداد دینے سے پہلے مسلک کا ضرور پوچھتے ہیں اور ہم خیال ہونے پر ہی مدد ملتی ہے۔

اسی بارے میں
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘
06 November, 2005 | پاکستان
امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ
05 November, 2005 | پاکستان
بالاکوٹ کی سوگوار عید
04 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد