BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 November, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘

خیمہ بستی
’خیمہ بستی میں جانے سے موت بہتر ہے‘
کاغان تعلیمی لحاظ سے ایک پسماندہ علاقہ ہے اور لوگ پرانی روایات میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں عورتوں کا گھر سے باہر جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جو بہ امر مجبوری جاتی بھی ہیں انہیں بازار سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ کوئی عقبی راستہ استعمال کرتی ہیں۔ مجھے بھی کاغان کے بازار میں کوئی عورت نظر نہیں آئی۔

کاغان میں ہر آتے روز موسم خراب ہو رہا ہے اور مسلسل زلزلوں کے جھٹکوں نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ موت کے خوف، ٹھنڈ اور بے گھری کے باوجود کئی مجبوریاں لوگوں کو انہیں پہاڑوں پر روکے ہوئی ہیں۔

ان مجبوریوں میں مال مویشی اور زخمی اور ایسے عورتیں اور بچے شامل ہیں جن کے ساتھ ساٹھ کلومیٹر پہاڑ پر سفر کر کے بالا کوٹ نہیں جایا جا سکتا کیونکہ مرکزی شاہراہ تاحال بند ہے۔

ان تمام مجبورویوں کے علاوہ لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جوخیمہ بستیوں میں اس لیے نہیں جانا چاہتے کہ اس صورت میں مرد اور خواتین ان بستیوں میں ساتھ ساتھ رہیں گے جو انہیں قبول نہیں ہے۔

گاؤں پارلا کے رہائشی اور کسان اتحاد کے نائب صدر خوشحال خان نے کہا ہے کہ ’خیمہ بستی میں جانے سے موت بہتر ہے کیونکہ وہاں ہماری عورتوں کو غیر مرد دیکھیں گے اور ہم مرنا گوارا کر لیں گے لیکن یہ بے حیائی گوارا نہیں ہوگی‘۔

ضلع مانسہرہ کے بلدیاتی نمائندوں نے کوشش کی لوگ منتقل ہونے پر آمادہ ہوجائیں لیکن لوگوں نے مال اسباب کے علاوہ جو ایک دوسرا اعتراض لگایا وہ بے پردگی کا تھا۔

مقامی انتظامیہ نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہر گاؤں کے لیے الگ خیمہ بستی ہوگی لیکن لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں ہے اور انہوں نے خوشحال خان کی قیادت میں ایک وفد بھی خیمہ بستی دیکھنے کے لیے بھجوایا تھا۔

خوشحال خان نےعورتوں کو ایسی جگہ دیکھا جہاں مردوں کا بھی گزر تھا اور یہ خوشحال خان کے نزدیک بے حیائی ٹھہری۔ انہوں نے کہا کہ ’ لوگ مر سکتے ہیں لیکن ایسی جگہ نہیں رہ سکتے‘۔

بہت سے قدرتی اور چند اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کے باوجود بہت سے لوگ موت کے خوف بھوک اور ٹھنڈ سے نجات کے لیے اس وادی کو چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں لیکن یہاں سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہیلی کاپٹر ہے جن کے ذریعے دن میں اوسطاً سو کے قریب افراد منتقل ہو پاتے ہیں۔

اسی بارے میں
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد