BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 November, 2005, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا خدا اب بھی ان سے ناراض ہے؟

خوراک
’صدقہ کا گوشت کہیں نہ کہیں سے آہی جاتا ہے‘
کاغان کی زیادہ تر آبادی پڑھی لکھی نہیں ہے بعض افراد یہ سوچتےہیں کہ شاید خدا ابھی بھی ان سے ناراض ہے اس لیے زلزلے کے جھٹکے ابھی تک آ رہے ہیں اور اس لیے کاغان کی مساجد میں ہر نماز کے بعد توبہ استغفار کی جاتی ہے۔

بہر حال خدا ناراض ہے یا نہیں لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے عقیدے کے حوالے سے بھی خوف کاشکار ہے۔

متاثرین طرح طرح کے توہمات کا بھی شکار ہیں۔ مثال کے طور پر ایک گاؤں کے لوگوں کو وہم ہے کہ اس زلزلے کے بعد سے ایک بن مانس نما عورت ان کے گاؤں آتی ہے اور کسی اکیلے بچے سے کھیل کر چلی جاتی ہے۔

ظاہر ہے اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور اسی طرح ایک گاؤں کے سیری کے رہائشی تاج محمد نے بتایا کہ زلزلے کے بعد وہ اپنے تباہ شدہ گھر سے نکلے تو سب سے پہلے انہوں نے اپنی بیوی کو نکالا جس کے پاؤں میں چوٹ لگی تھی اور دوسرا کام یہ کیا کہ انہوں نے ڈش انٹینا توڑ کر کھائی میں پھینکا اور لات مار کے اسکے ریسور کو بھی توڑ دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بیچاری ڈش کا کیا قصور تھا تو انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سارا عذاب اس لیے آیا ہے کہ وہ ٹی وی پر خبریں، ڈرامے اور دوسرے پروگرام دیکھتے تھے جس سے ان کے بقول اللہ ان سے ناراض ہوگیا ہے۔

کاغان کے زلزلہ زدگان شدید غذائی قلت کا بھی شکار ہیں مگر آلو اور مکئی کے علاوہ یہاں کے لوگوں کو اگر کوئی دوسری خوراک میسر ہے تو وہ گوشت ہے۔

مقامی باشندوں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ زلزلے کے بعد سے لوگ مسلسل اپنے مویشی صدقے کے طور پر ذبح کر رہے ہیں۔

کاغان کے گاؤں بیلا کے رہائشی اور یونین کونسل کاغان کے ممبر مختیار احمد مغل نے بتایا کہ اب تک صرف انہی کے گاؤں میں سات گائیں اور تین بکریاں ذبح ہو چکی ہیں اور ان کے مطابق ایسا ہرگاؤں میں ہو رہا ہے۔

موضع لڑی کے رہائشی محمد جہانگیر نے کہا کہ زلزلے کےبعد سے ان کے گھر میں ہر تین چار روز کے بعد گوشت پک جاتا ہے کیونکہ ان کے بقول زلزلے میں بچ جانے والے جانوروں کو اللہ کے نام پر ذبح کیا جا رہا ہے۔

محمد جہانگیر نے کہا کہ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر آلو اور مکئی کاشت کی جاتی ہے تاہم اس کے علاوہ وہاں کھانے کے قابل کوئی اور سبزی یا جنس نہیں ملتی لیکن صدقہ کا گوشت کہیں نہ کہیں سے آہی جاتا ہے۔

کونسل مختیار محمد نے بتایا کہ جانورں کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے سے لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا ان پر رحم کرے گا اور زلزلے کی صورت میں ان کے بقول ان پر جو عذاب آیا ہے وہ نہیں آئے گا۔

اسی بارے میں
کاغان ویلی ابھی تک محصور
31 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد