BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 November, 2005, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟

بالاکوٹ
بالا کوٹ کے شوکت حسین شوکت حسین جو کہ قریبی علاقے شہوال کے سرکاری ہائی سکول میں پڑھاتے ہیں
ملک کے مختلف علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ عید کے دوسرے دن زلزلے سے برباد ہوجانے والے صوبہ سرحد کے شہر بالا کوٹ کی تباہی کے مناظر دیکھنے آئے۔

آنے والے لوگوں میں سے زیادہ تر کا تعلق مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور سے تھا۔ یہ لوگ اپنی اپنی گاڑیوں پر آئے تھے اور بعض کے ساتھ ان کے بیوی بچے بھی تھے۔ حتیٰ کہ بعض ٹولیوں میں کراچی سے آئے ہوئے لوگ بھی ملے لیکن شہر کی سڑکوں پر اگر نہیں تھے تو زلزلے کی تباہ کاریوں سے بچ جانے والے بالاکوٹ کے باقی ماندہ باسی۔

بالا کوٹ دریائے کنہار کے دونوں کناروں پر آباد شہر تھا۔ پانی کے بہاؤ کے ساتھ بائیں طرف والا علاقہ گرلاٹ اور دائیں جانب والا گراں کہلاتا ہے۔ زلزلے کے بعد سے گرلاٹ اور گراں کے لوگ اپنے گرے ہوئے مکانوں کے ملبوں پر ایسے بیٹھے ہیں جیسے زندگی کا انتظار کررہے ہوں یا قدرت سے احتجاج۔

دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں میں سے کوئی ان سے ہمدردی کے دو بول کہہ دیتا ہے تو کوئی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے پچاس یا سو روپے کا نوٹ تھما دیتا ہے۔ بالاکوٹ کی سڑکوں پر بچے ہر آنے جانے والے سے ’عیدی‘ مانگتے نظر آئے لیکن پوچھنے پر کسی کا بھی تعلق خاص شہر سے نہ تھا۔ ان میں سے زیادہ تر قریبی دیہاتوں سے آئے ہوئے تھے یا پھر مانسہرہ سے۔

’بالا کوٹ کا کوئی آدمی آپ کو بھیک مانگتا نظر نہیں آئے گا‘ گرلاٹ اور گراں کو ملانے والے دریائے کنہار کے پل پر بیٹھے مانسہرہ کے نواحی قصبے اگی سے آئے ہوئے مطیع اللہ نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالا کوٹ کے لوگ خوشحال اور خوددار تھے۔ تاہم مطیع اللہ کا خیال تھا کہ بالا کوٹ میں آنے والی تباہی یہاں کے سیاحتی ہوٹلوں میں ہونے والی برائیوں کا نتیجہ ہے۔

جب ان سے کہا گیا کہ بالاکوٹ کے تو ’جہادی‘ ٹرینگ کیمپ بھی مشہور تھے تو انہوں نے کہا کہ ایک گھر کے ایک یا دو فرد اگر خراب ہوجائیں تو ان کی وجہ سے ملنے والی سزا کا خمیازہ تو سارے خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں مطیع اللہ کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

بالا کوٹ
زلزلے میں بالا کوٹ کے محمد پرویز کی والدہ، پانچ سالہ بیٹی عروج اور خاندان کے دوسرے تین افراد ہلاک ہوئے

نماز عید کے خطبات میں مولوی حضرات نے بھی کچھ ایسی ہی باتیں کی تھیں۔ تاہم ان میں سے بیشتر دوسرے علاقوں سے خطبہ دینے کے لیے تشریف لائے تھے اور زلزلے کی تباہ کاریوں سے براہ راست متاثر نہ تھے۔

تو وہ لوگ اس بارے کیا سوچتے ہیں جن کا زلزلے نے سب کچھ چھین لیا ہے؟

محمد پرویز اپنے گھر کے ملبے پر لگے خیمے میں ملے۔ وہ ایک ہوٹل پر باورچی کے طور کام کرتے تھے۔ زلزلے میں ان کی والدہ، پانچ سالہ بیٹی عروج اور خاندان کے تین اور افراد ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ لشکر طیبہ اور جماعت اسلامی والے ہر وقت جہاد کی بات کرتے ہیں ان کے لیڈر حافظ سعید اور قاضی حسین احمد وغیرہ خود کیوں اس میں حصہ نہیں لیتے۔

پرویز کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں نے موت کو اپنی تمام ہیبت کے ساتھ دیکھ لیا ہے، وہ اب اس سے نہیں ڈرتے، لیکن جہاد کی باتیں کرنے والے آگے بڑھیں اور قربانی دیں تو لوگ بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔

ساتھ ہی اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھے شوکت حسین جو کہ قریبی علاقے شہوال کے سرکاری ہائی سکول میں پڑھاتے ہیں۔ ان کے سکول تیس طالبعلم زلزلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کہنا تھا بالا کوٹ میں تین بڑی مساجد تھیں اور تینوں مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے زیر انتظام تھیں۔ خطیب حضرات ایک دوسرے کے مسلک پر تنقید کرتے اور لوگوں کو فروعی باتوں میں الجھائے رکھتے تھے۔

شوکت حسین کا کہنا تھا کہ عذاب خداوندی کی باتیں کرنے والے اس بارے کیا کہتے ہیں؟ کیا مسلمان کو مسلمان یا انسان کو انسان سے لڑانے پر خدا ناراض نہیں ہوتا؟

بالا کوٹ
بالاک کوٹ کے علی اصغر زلزلے سے پہلے جائیداد کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے

گرلاٹ کے قریب چھڑی کی مدد سے چلتے ہوئے علی اصغر ملے جو کہ زلزلے سے پہلے جائیداد کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے جبکہ ان کے دو ٹرک بھی ہیں جو زلزلے کے بعد سے ناران کاغان کے قریب کہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ زلزلے میں ان کی بیوی، بارہویں جماعت کی طالبہ بیٹی اور اڑھائی سالہ بیٹا ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے خاندان میں صرف ایک بیٹی زندہ بچی ہے جو کہ مانسہرہ میں بی اے کی طالبہ ہیں۔ان کا اپنا ایک ہاتھ مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے۔

علی اصغرکا کہنا تھا کہ حکومت سے لیکر مولویوں تک سب ’دکانداری‘ کر رہے ہیں کسی کو بھی ان کے دکھ کا صیح اندازہ نہیں۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ بس یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔ اسی دوران منہ پر رومال رکھے گوجرہ سے آئے ایک آدمی نے ان کے ہاتھ پر پچاس کا نوٹ رکھ دیا تو وہ ضبط نہ کرسکے اورآنسو کے ساتھ اپنی بے چارگی پر رو دیے۔

اسی بارے میں
امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ
05 November, 2005 | پاکستان
بالاکوٹ کی سوگوار عید
04 November, 2005 | پاکستان
سیاسی جماعتوں کے عید کارواں
03 November, 2005 | پاکستان
زلزلے نے سب کو برابر کر دیا
03 November, 2005 | پاکستان
25 ہزار بہت کم ہے: متاثرین
01 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد