BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 November, 2005, 18:59 GMT 23:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری

ایک زخمی بچہ
ایک زخمی بچہ عید پر ملنے والے کھلونے سے بے خبر سو رہا ہے
اس سال جب رمضان آیا تو بالاکوٹ کے دور دراز گاؤں بونجہ کے دبلے پتلے پینتیس سالہ محمد جاوید کے وہم وگماں میں بھی نہ تھا کہ یہ مقدص ماہ اتنا بھاری اور اس کا اختتام یعنی عید اتنے برے انداز میں آئے گی۔

محمد جاوید آٹھ اکتوبر کے قیامت خیز زلزلے کے بعد اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو دفنا کر اب پشاور کے ہسپتال میں ہے اور گزشتہ بیس روز سے بچ جانے والے چوتھے دس سالہ بچے نوید کی تیمارداری میں جُتا ہے۔ نوید کو سر پر شدید چوٹ آئی تھی اور پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نیورو سرجری وارڈ کے ڈاکٹروں نے اسے ابھی انڈر آبزرویشن رکھا ہوا ہے۔

جاوید کی بیوی اور ایک بچی بالاکوٹ میں اپنے گاؤں بونجہ میں ایک خیمے میں پڑے ہیں۔ عید کا دن ہے اور وہ نوید، بیٹی اور بیوی کے بارے میں پریشان ہے۔ بیوی سے اس کا کوئی رابطہ نہیں لیکن اس بات کا اطمینان ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے پاس ہیں۔

قریب ہی ایک دوسرے بستر پر اس کی بہن کا بارہ سالہ بیٹا بے ہوش پڑا ہے۔ اس کا دو روز پہلے سر کا بڑا آپریشن ہوا لیکن وہ ابھی تک غنودگی کی حالت میں ہے۔

ایک تیسرے بستر پر بالاکوٹ کی نوجوان لڑکی ثمینہ سر پر چھت گرنے کے باعث گزشتہ سولہ روز سے بے ہوش ہے۔ اس کے بستر کے دائیں بائیں اس کی پریشان ماں اور سفید ریش باپ شاہجہان بنچوں پر بیٹھے بیٹی کے ہوش میں آنے کے منتظر ہیں۔

ایک زخمی بچہ
یہ ایک مسکراہٹ ہی اس کی عید ہے

نوید تین ہفتوں سے ایک ہی جوڑے میں ہسپتال میں بیٹے کو پاس بیٹھا ہے، اس کی بہن اپنے روتے ہوئے بیٹے کو چپ کرانے میں لگی ہیں جبکہ شاہجہان بے ہوش بیٹی کی کروٹیں بھی خود تبدیل کروا رہے ہیں۔

یہ منظر تھا پشاور میں عید کے پہلے روز ہسپتال کے ایک وارڈ کا۔ یہاں ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری اور ہر آنکھ اشک بار۔ یہاں اگر کسی چیز کے کوئی آثار نہیں تھے تو وہ عید تھی۔

یہ تو محض حال تھا ایک وارڈ کا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ سینکڑوں مریض پشاور کے دیگر ہسپتالوں میں بھی زیر علاج ہیں۔ ان کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں کی تعداد بھی اگر جمع کریں تو یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے۔

جاوید کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں عید کیا عید ہوئی۔ ’یہ تو کوئی عید نہ ہوئی نا۔ جس نے تین بچے دفنائے ہوں اور خود ہسپتال میں رُل رہا ہو۔ اسے کیا معلوم عید کہاں ہے‘؟

ایسے میں امید کی کرن دل میں درد رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو عید کے دن اپنے بچوں کے ساتھ ہسپتال آئے اور ان زخمی بچوں میں کھلونے اور چند مسکراہٹیں بانٹ کر چلے گئے۔

ان میں پشاور ہائی کورٹ میں کام کرنے والے سید حامد محی الدین بھی تھے۔ ’ہم چاہتے تھے کہ ہمارے بچوں کو احساس ہو کہ دکھ کیا ہوتا ہے اور درد کیسے بانٹے جاتے ہیں۔ انہیں ہم اسی تربیت کے لیے یہاں لائے‘۔

ان کے سات سال کے بیٹے سید محمد حیدر شاہ نے جب کھلونے نوید کے ہاتھ میں رکھے تو مسکراہٹ دیکھنے لائق تھی۔ یہی مختصر مسکراہٹ شاید اُس کی عید تھی۔

66بالاکوٹ میں عید
جہاد کی دعوت، جدائی کا غم، ملبے کے ڈھیر
66زلزلے کے بعد عید
عید بھی کہیں رنج و غم کے ملبے تلے دب گئی
66دنوں کے سفر کے بعد
سب آگے بھیج دیتے ہیں: متاثرین کی شکایت
66سفید پوشی کا بھرم
مدد کرنے والے اب مدد لینے سے گریزاں کیوں؟
66سترہ ہزار بچے ہلاک
زلزلہ: 17000 بچے فوت ہوگئے ہیں: یونیسف
اسی بارے میں
’بچیوں کو بچالو‘
02 November, 2005 | پاکستان
وعدہ جو وفا ہوا
02 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد