بالاکوٹ کی سوگوار عید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں تباہی و بربادی کا پوسٹر بن جانے والے صوبہ سرحد کے شہر بالا کوٹ میں عیدالفطر آہوں اور سسکیوں میں منائی جا رہی ہے۔ بیشتر علماء حضرات نے نماز عید کے خطبوں میں جہاد کے راستے کو ہی غموں کا مداوا قرار دیا ہے۔ بالا کوٹ میں نماز عید کے چھوٹے بڑے کئی اجتماعات ہوئے جن کا زیادہ تر انعقاد خمیہ بستیوں کے ساتھ کھلے میدانوں میں کیا گیا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب ایک پٹرول پمپ پر منعقد ہونے والے اجتماع میں کالعدم جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے حوالے سے پہچانے جانے والی جماعت الدعوۃ کے حافظ عبدالرؤف نے اپنے خطبے میں زلزلے کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں پھیلے ’غیر اسلامی طور طریقوں‘ اور کیبل ٹی وی پر فحش پروگرام دیکھنے کا نتیجہ قرار دیا جس کا شکار متاثرہ علاقوں کے بے گناہ لوگ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاد ایک مسلمان کے لیے اس طرح ضروری ہے جس طرح زندہ رہنے کے لیے ہوا اور پانی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زلزلے سے پیدا ہونے والے المیہ کے نتیجے میں جہاد کا راستہ ترک نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی بیرونی امداد سے متاثر ہونے کی ضرورت ہے۔
اس اجتماع سے کچھ آگے عید کی نماز کے لیے لوگوں کا ایک بڑا اجتماع نظر آیا جس سےجماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والےصوبہ سرحد کے سنیئر وزیر مولانا سراج الحق خطاب کر رہے تھے۔ اجتماع میں کراچی کے سابق ضلع ناظم نعمت اللہ خان بھی نظر آئے۔ مولانا سراج نےصبر کی تلقین کی اور فرمایا کہ قدرتی آفات کا سلسلہ ہر شعبہ زندگی کو اسلامی نظام کے تابع کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ نماز عید کے بعد لوگ زاروقطار روتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملے۔ بہت سے لوگ بعد میں اپنے گرے ہوئے مکانوں کے ملبے کے پاس جا کر ان لوگوں کی یاد میں روتے رہے جو ان سے جدا ہوگئے اور ان میں سے کئی ملبے سے نکالے بھی نہ جا سکے۔ مختلف ملکی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور فوج نے مل کر بالا کوٹ کے قریب پھوڑی کے مقام پر قائم ایک خیمہ سکول میں زلزلے سے متاثرہ بچوں کے لیے ایک میلے کا بندوبست کیا ہوا ہے جس میں کوئی تفریحی سرگرمی تو نظر نہیں آئی سوائے اس کے کہ بچوں میں سویٹرز اور جیکٹس تقسیم کی گئیں۔ تاہم فوجی جوان تھوڑی تھوڑی دیر بعد بچوں کو خیموں میں بنائے گئے ان کے کلاس رومز میں بھیجتے نظر آئے۔ عید کے روز بچوں کو ’منظم‘ کرنے کی اس فوجی کوشش کے بارے پوچھا تو ایک جوان نے بتایا کہ بیگم صہبا مشرف شاید آج کسی وقت ان بچوں میں تحائف تقسیم کرنے آئیں تو اس موقع پر کوئی بد نظمی نہیں ہونی چاہیئے۔ ادھر بچے ہر اس شخص کے قریب جھمگٹا بنا لیتے ہیں جو مقامی دکھائی نہیں دیتا اور بعض انگریزی میں ’گڈ مارننگ‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک جھمگٹے میں گھرنے کے بعد میں نے کیمرہ سیدھا کیا تو کسی بچے کی آواز آئی ’ یہ کچھ نہیں لایا، بس تصویر بنائے گا‘۔ | اسی بارے میں زلزلہ: رنج و غم تلے دبی ہوئی عید 03 November, 2005 | پاکستان سیاسی جماعتوں کے عید کارواں03 November, 2005 | پاکستان وعدہ جو وفا ہوا02 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||