زلزلہ: رنج و غم تلے دبی ہوئی عید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اس کےزیر انتظام کشمیر کے زلزلہ زدوں علاقوں میں اس بار عید بھی دکھ اور غم کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ پاکستانی شہر مانسہرہ میں زلزلے سے متاثرہ ایک شخص نے بتایا ہے کہ اس نے اپنے بچوں کے لیے بھی نئے کپڑے نہیں خریدے۔ باغ کی موسم نامی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو عید کیا منائے۔ ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ یہاں کچھ ہے ہیں نہیں تو خریدا کیا جائے۔ نہ تو یہاں جوتے ہیں، نہ کپڑے اور نہ ہی کچھ اور کہ تحفے کے طور پر خرید کر کہیں لے جایا جا سکے۔ بی بی سی کے نامہ نگار علی حسن کا کہنا ہے کہ مظفر آباد کی فضا پر دکھ المناکی طاری ہے۔ شہر کی اکثر دکانیں زلزلے سے تباہ ہو چکی ہیں۔ ان میں کچہ دکانیں کھلی ہیں اور ان پر جوتے وغیرہ بھی ہیں لیکن مظفر آباد میں اب انہیں خریدنے والا کوئی نہیں۔ راولپنڈی سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں میں کپڑے اور زیورات وغیرہ تقسیم کیے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے ایک سو پچاس کیمپ قائم کیے گیے ہیں۔ زلزلے میں اپنے بھائی اور ایک بہن سے محروم ہونے والی آمنہ کہتی ہیں انہیں اس سال عید منانے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ حالانکہ وہ ہر سال عید پر کپڑے اور زیوارات خریدتی اور عید مناتی تھیں۔ | اسی بارے میں زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘01 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان ’پہلے زلزلہ اور اب شیر اور سانپ‘22 October, 2005 | پاکستان ’زلزلہ 50سالہ تاریخ نہیں بدل سکتا‘22 October, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کےلیے بلا معاوضہ فلم19 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی مصیبتوں میں اضافہ16 October, 2005 | پاکستان 'زلزلہ سے بحالی: دہائی لگ سکتی ہے' 15 October, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے اتھارٹی کا قیام 12 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||