بچوں کوصدرمشرف کا طویل انتظار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر سرکاری تنظیموں اور فوج کے اشتراک سے چلنے والے ایک خیمہ سکول میں بالا کوٹ کے زلزلے سے متاثرہ بچوں کو عید کے روز صبح سے سہ پہر تک صدر جنرل پرویز مشرف کے انتظار میں رکھا گیا۔ بچوں کو زلزلہ کے متاثرین کے لیے بنائے گئے مختلف کیمپوں سے صبح سات بجے لایا گیا تھا کہ صدر مشرف یا ان کی اہلیہ بچوں کو عید کے تحائف پیش کرینگے اور اس حوالے سے پاکستان کے سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز کے لوگ بھی اپنے اپنے سازوسامان کے ساتھ اس ’ اہم ‘ موقع کو سامعین تک براہ راست پہنچانے کے لیےمستعد کھڑے تھے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر کافی عرصہ بچوں میں ایک ڈرامہ سیریز ’عینک والا جن‘ مقبول رہی۔ اس سیریز کے اداکار بالا کوٹ بلائے گئے تھے اور خیال تھا کہ صدر اور ان کی اہلیہ خیمہ سکول میں بچوں کے ساتھ ان کی پرفارمنس دیکھیں گے۔ فوج کے کئی جوان دن بھر بچوں کو قابو کرنے میں مصروف رہے لیکن بچے تھے کے تھوڑی تھوڑی دیر بعد خیموں میں قائم اپنے کلاس رومز سے نکل آتے۔ دن کے بارہ بجے کے قریب بچوں کو بھوک نے ستانا شروع کیا تو فوجی ان میں سے کچھ کو قریب ہی واقع اپنے کیمپ میں لے گئے اور تھوڑا بہت کھانا کھلایا۔
بچوں کا دل بہلانے کے لیئےکچھ غیر سرکاری تنظیموں کےکارکن وقتاً فوقتاً انہیں کھیلنے کے لیےکوئی نہ کوئی کھلونا دے دیتے۔ تین بجے کے قریب صدر مشرف اور ان کی اہلیہ آئے اور وقت کی کمی کی وجہ سے وہ صرف ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے خیمے میں ہی جا سکے۔ یاد رہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم پتن کی طرف سے قائم ایک خیمہ بستی میں گزشتہ منگل کو اٹھارہ سالہ رفعت اور چھبیس سالہ ابرار شاہ کی شادی انجام پائی تھی۔ صدر نے دلہن کو جیولری کا ایک سیٹ اور دلہا کو کپڑے اور سلامی میں پانچ ہزار روپے دیے۔نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور چل دیے۔ صدر نو بیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے کے لیےآتے جاتے خیمہ سکول کے پاس سے گزرے لیکن صبح سے منتظر رکھے گئے بچوں کو ملے بغیر چلے گئے۔ جاتے جاتے صحافیوں کے یاد دلانے پر صدر نے فی بچہ دو دو ہزار روپے عیدی کا اعلان کر دیا۔
صدارتی جوڑے کے جانے کے بعد بچوں کو ’عینک والا جن‘ ڈرامہ دکھایا گیا لیکن وہ تمام تحائف جو صدر مشرف یا ان کی اہلیہ نے بچوں میں تقسیم کرنے تھے فوجی گاڑی میں واپس روانہ کر دیے گئے۔ | اسی بارے میں زلزلے سے 17000 بچے فوت ہوئے: یونیسف01 November, 2005 | پاکستان ’بےسہارا بچے سو سے زیادہ نہیں‘31 October, 2005 | پاکستان بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان لاوارث بچےحکومت کی ذمہ داری 17 October, 2005 | پاکستان ’خدا کے لیے میرے بچے نکال دو‘10 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان پاکستان کے چالیس لاکھ مزدور بچے 14 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||