25 ہزار بہت کم ہے: متاثرین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِاعظم کے اس اعلان کے بعد کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو گھر بنانے کے لیے 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے، متاثرہ لوگ اس رقم کو انتہائی کم قرار دے رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبۂ سرحد کے ضلعے شانگلہ کے گاؤں بربت کوٹ میں زلزلے سے متاثر ہونے والے زرفرین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نےگھر بنانے کے لیے جتنی رقم دینے کا اعلان کیا ہے اس سے گھر تو کیا ان کے تباہ شدہ گھر کا ملبہ تک بھی نہیں اٹھوایا جا سکتا۔ اسی طرح پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے شہر ہجیرہ کے گاؤں کھتیرہ کےرہنے والےمحمد طارق کیانی نے جن کا گھر آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کم از کم تباہ ہونے والے گھروں کا معائنہ ہی کرا لے۔ زرفرین کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کے چار کمرے تھے جو زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ’میرا گھر رہنے کے قابل ہیں نہیں ہے اور حکومت نے پچیس ہزار دینے کا جو اعلان کیا ہے اس سے تو شاید کمرے بھی نہیں بن سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی اتنی شدید تھی کہ نہ صرف کوئی چیز نہیں بچی بلکہ ملبے میں ایسا کوئی چیز تک نہیں جسے گھر کی تعمیر میں دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔ زرفرین کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کی مالیت کم از دو لاکھ کے قریب تھی۔ طارق کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے جتنی رقم دینے کا اعلان کا اس سے گھر نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کمرے کی تعمیر کی اُجرت بھی شاید 25 ہزار سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر کی مالیت دو لاکھ روپیہ تھی۔ | اسی بارے میں ’گھر بنانے کے لیے پچیس ہزار‘01 November, 2005 | پاکستان زلزلے سے 17000 بچے فوت ہوئے: یونیسف01 November, 2005 | پاکستان ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||