BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 November, 2005, 18:22 GMT 23:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
25 ہزار بہت کم ہے: متاثرین
حکومت کو تباہ شدہ گھروں کا معائنہ کرانا چاہیے: ایک متاثر
وزیرِاعظم کے اس اعلان کے بعد کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو گھر بنانے کے لیے 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے، متاثرہ لوگ اس رقم کو انتہائی کم قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبۂ سرحد کے ضلعے شانگلہ کے گاؤں بربت کوٹ میں زلزلے سے متاثر ہونے والے زرفرین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نےگھر بنانے کے لیے جتنی رقم دینے کا اعلان کیا ہے اس سے گھر تو کیا ان کے تباہ شدہ گھر کا ملبہ تک بھی نہیں اٹھوایا جا سکتا۔

اسی طرح پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے شہر ہجیرہ کے گاؤں کھتیرہ کےرہنے والےمحمد طارق کیانی نے جن کا گھر آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کم از کم تباہ ہونے والے گھروں کا معائنہ ہی کرا لے۔

زرفرین کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کے چار کمرے تھے جو زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ’میرا گھر رہنے کے قابل ہیں نہیں ہے اور حکومت نے پچیس ہزار دینے کا جو اعلان کیا ہے اس سے تو شاید کمرے بھی نہیں بن سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی اتنی شدید تھی کہ نہ صرف کوئی چیز نہیں بچی بلکہ ملبے میں ایسا کوئی چیز تک نہیں جسے گھر کی تعمیر میں دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔

زرفرین کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کی مالیت کم از دو لاکھ کے قریب تھی۔

طارق کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے جتنی رقم دینے کا اعلان کا اس سے گھر نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کمرے کی تعمیر کی اُجرت بھی شاید 25 ہزار سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر کی مالیت دو لاکھ روپیہ تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد