BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 November, 2005, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گھر بنانے کے لیے پچیس ہزار‘

وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ صورتحال پوری طرح کنٹرول میں ہے
وزیر اعظم شوکت عزیز نے آج قومی اسمبلی کو بتایا کہ زلزلےسے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستاون ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں زلزلے پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امدادی صورتحال اطمینان بخش ہے اور بین الاقوامی برادری نے اب تک دو بلین ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ زلزلے میں جن افراد کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کو حکومت پچیس ہزار روپے معاوضہ دے گی جس سے وہ سمینٹ اور ٹین کی چھتیں خرید کر اپنا گھر دوبارہ بناسکیں گے۔

وزیر اعظم نے مکانات کی تعمیر کے لیے دی گئی حکومتی امداد پر اپوزیشن کی اس تنقید کو مسترد کر دیا جس میں اس امداد کو مضحکہ خیر قرار دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے فوج کے اوپر حزب اختلاف کی اس تنقید کو بھی مسترد کر دیا جس میں حزب اختلاف نے کہا تھا کہ فوج زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں دیر سے پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج پوری طرح امدادی کام میں شریک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے پاکستان کی تاریخ کی اس سب سے مشکل گھڑی میں عوام کا ساتھ دیا ہے۔

وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ پورے ملک میں گھروں کی تعمیر کے لئے نیا بلڈنگ کوڈ متعارف کروایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ زلزلے سے ہلاک ہونے والے اور زخمیوں کو حکومت کی طرف سے معاوضہ دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ صورتحال پوری طرح کنٹرول میں ہے اور کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی یعنی اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے ارکان وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے ایوان سے اس بات پر احتجاج کرتے ہوئے چلے گئے کہ ان کے امدادی کاروائیوں کے بارے میں اعتراضات کو سپیکر نے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔

بعد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے آرڈی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس سارے امدادی آپریشن میں سول انتظامیہ اور وزیر اعظم کا کردار کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں باغ میں ایک فوجی افسر نے بتایا ہے کہ ابھی تک چالیس فی صد زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد نہیں پہنچی ہے۔

اس سے قبل اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو ریسکیو کی خصوصی ٹریننگ دی جائے اور جو نوجوان بھی یہ ٹریننگ کرے اس کو امتحان میں اضافی نمبر دیئے جائیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے شہری دفاع کے محکمے کو بھی فعال اور بہتر بنانے پر زور دیا۔

66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
66امداد میں دیری۔۔۔
باغ اور راولاکوٹ: صرف پچیس فیصد خیمے تقیسم
66ایل او سی پار رابطہ
کم از کم دلاسہ تو دے سکتے ہیں: سہیل مسعود
66جائیں تو جائیں کہاں
الائی والے جغرافیائی و انتظامی مسائل کا شکار
66صرف 100 بے سہارا؟
حکومت کے مطابق سو سے بھی کم بچے بےسہارا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد