 | | | متاثرہ افراہ کو سردی سے بچانے کے لیے بہت کم پیش رفت نہیں ہو سکی |
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اب اولین ترجیح سردی سے بچاؤ کو دی جانی چاہیے۔ ہنگامی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے کوارڈینیٹر نے متنبہ کیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے کم و بیش تین لاکھ لوگوں کے اس وقت سب سے بڑا خطرہ موسمِ سرما ہے جو کچھ ہی دن میں شروع ہونے والا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے کہا ہے کہ فی الحال کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان کنٹرول لائن کو کھولنے میں تاخیر ہو گی۔ ابھی کنٹرول لائن صرف ایک جگہ سے کھولی جائے گی جب کہ ایک اور مقام پر دو دن بعد کھلے گی۔ سرکاری طور پر اب تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوہتر ہزار بتائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ اب تک متاثرہ افراہ کو سردی سے بچانے کے لیے بہت کم پیش رفت ہو سکی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’لیکن اب ہمیں جس معاملے پر اولین توجہ دینی ہو گی وہ سردی سے بچاؤ کو کوششیں ہیں۔ کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹینٹ کی شکل میں پناہ یاچھت فراہم کرنے پر بہت زور دیا ہے اور اس کا اچھا نتیجہ بھی نکلا ہے لیکن ان خیموں یا پناہ گاہوں میں حرارت کی ضرورت پوری کرنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ہمیں گیس، مٹی کے تیل اور لکڑی یا تیل سے جلنے والے چولہوں کی ضرورت ہو گی۔ |