ٹینٹ کلاسوں میں امید کا سبق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی نیم خواندہ ملک میں تعلیم ایک روشن کل کی ضمانت ہوتی ہے مگر مظفر آباد میں آٹھ اکتوبر کو تعلیم کا یہ سفر ایک تاریک باب پر ختم ہوا۔ اس صبح مظفر آباد پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین میں تقریباً دو ہزار طالبات کالج میں موجود تھیں۔ یہ ایک عام سا دن تھا۔ روایتی اسمبلی اور کلاسوں میں حاضری کے بعد جاری پیریڈ ختم ہونے کو تھی کہ قیامت آ پہنچی۔ ریکٹر سکیل پر 7.6 شدت کے زلزلے کی لہر نے جہاں پر چیخ و پکار میں کالج کی طالبات اور اساتذہ کو کالج کے میدان کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا وہاں پر افراتفری کے عالم میں درجنوں طالبات کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ جب زلزلہ تھما شہر کے معروف علاقے مدینہ مارکیٹ کے قریب واقع کالج کی وسیع عمارت کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا جس میں درجنوں طالبات دب گئی تھیں۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد تقریباً چالیس طالبات کی لاشیں اب بھی ملبے کے نیچے ہیں۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صائمہ احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ چار ہفتوں کی مسلسل تگ و دو کے نتیجے میں اب تک ڈیڑھ سو طالبات کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ کالج کے میدان میں ایک ٹینٹ موجود ہے جو دن کے وقت دفتر اور رات کو ڈاکٹر صائمہ کا گھر ہوتا ہے کیونکہ دیگر لوگوں کی طرح ان کا گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ کالج کی کچھ کلاسیں اب بھی کھڑی ہیں لیکن جابجا دراڑیں موت کی لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف سیڑھیاں جو پہلی منزل پر کلاسوں کی طرف جاتی ہیں اور جن پر چار ہفتوں کے بعد بھی جوتے، کتابیں اور بستے بکھرے پڑے ہیں جو کہ آٹھ اکتوبر کی ہولناک صبح کو طالبات کی موت سے فرار کی کوشش کا ثبوت ہیں مگر ہر طرف پھیلی بو موت کی نشاندہی کرتی ہے۔ پرنسپل کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ان کے دفتر کے ملبے سے حاضری رجسٹر مل گئے تھے جس سے طالبات کی تعداد کا تعین ممکن ہو گیا۔ ریکارڈ کے مطابق تقریباً سولہ سو طالبات زلزلے میں بچ گئیں یا ان کو معمولی زخم آئے۔ ایک سو پچاس طالبات شدید زخمی ہوئیں جن میں سے کئی کو دو دن کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالا گیا تھا۔ ڈاکٹر صائمہ کے مطابق جن طالبات کی زندگی کا باب ختم ہوگیا ان میں سے ایک سو پچاس کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان میں سے کئی لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق چالیس طالبات کا ابھی تک سراغ نہیں ملا۔ پرنسپل ڈاکٹر صائمہ کے مطابق جہاں درجنوں طالبات ہلاک ہوئیں وہاں پر کالج کی وارڈن اور چار پروفیسرز کو بھی زلزلے نے آ لیا۔ قیامت خیز زلزلے سے نمٹنا ان طالبات کے سلیبس میں شامل نہیں تھا لیکن جو سبق انہوں نے سیکھا وہ مقابلے اور امید کا ہے۔ عید کے بعد کالج کچھ ٹینٹ کلاسیں شروع کر رہا ہے۔ ایک نئے کل کا سفر ان کی تعلیم کا نیا باب ہوگا۔ |
اسی بارے میں ’قبریں اور تدفین، تھک چکے ہیں‘11 October, 2005 | پاکستان ہر طرف کتابیں، دوپٹے اور جوتیاں 11 October, 2005 | پاکستان گلے میں گھر کا پتہ، ہاتھ پر ٹیلیفون نمبر20 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||