’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں آفت زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کاوسیع تجربہ رکھنے والے ایک برطانوی کارکن جان لین کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد تعمیرنو کا مطلب متاثرہ علاقوں میں زندگی کی تعمیر ہونا چاہیے ناکہ صرف ’ کنکریٹ‘ کی۔ جان کا کہنا تھا کہ اجڑے ہوئے شہر اور گاؤں دوبارہ آباد کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت حکمت عملی بنانا پڑے گی جس میں پہلے متاثرہ لوگوں کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی بحالی پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے المیے کے بعد مشکل مرحلہ لوگوں میں جینے کی امنگ پیدا کرنا ہی ہوتا ہے باقی سب وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتا چلا جاتا ہے۔ جان لین برٹش نیوی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے برٹش ایگزیکٹو سروسز اورسیز کے ساتھ منسلک ہیں جس کے تحت وہ روانڈا، بوسنیا اور افغانستان وغیرہ میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ بالا کوٹ میں وہ اپنی بیوی بیلا لوپیز کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ بیلا کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک پیرو سے ہے لیکن اب انہوں نے برطانوی شہریت اختیار کر لی ہے۔ بیلا کپڑوں کے ٹکڑوں سے گڑیا بنانے میں مہارت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہنر زلزلے سے متاثرہ خواتین کو سکھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا نکاسی آب، کوڑا کرکٹ، صفائی کے نظام کا نہ ہونا، وبائی امراض اور سردی ایسے مسائل ہیں جن کا متاثرہ علاقوں میں فوری حل ڈھونڈا جانا چاہیے۔جان نے ہنستے ہوئے بتایا کہ زلزلے کے بعد جب بالا کوٹ پہنچے تو انہوں نے بیت الخلاء کے بارے دریافت کیا تو ایک مقامی آدمی نے انگریزی میں یہ بتانے کے لیئے کہ ایسی کوئی چیز اب یہاں نہیں ہے اور سب کو کھلے عام رفع حاجت کرنا پڑ رہی ہےکہا کہ ’ یہ فری لانس ہے ‘۔ پاکستانی لوگوں کے جذبہ ہمدردی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح لوگ مدد کے لیئے یہاں متاثرہ علاقوں کی طرف مدد کرنے کو بھاگ پڑے ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
جان کا کہنا تھا کہ لیکن ایسا چونکہ کسی نظام کے تحت نہیں ہورہا تھا اس لیے بہت سا امدادی سامان ضائع ہوا جبکہ متاثرین کی خاصی بڑی تعداد غالباً ابھی تک امداد سے محروم بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ میں سلے سلائے کپڑے اتنی زیادہ مقدار میں آگئے تھے کہ انہوں نے لوگوں کو انہیں جلاتے دیکھا۔ حکومتی کوششوں پر محتاط انداز میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہیے باقی بہتری کی گنجائش تو ہر وقت رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج متاثرہ علاقوں میں قابل تعریف کردار ادا کر رہی ہے اور اس کی مدد کے بغیر پاکستانی و بین الاقوامی امدادی کارکن شاید اس مشکل علاقے میں کام نہ کر پاتے۔ جان کا کہنا تھا کہ تاہم متاثرہ لوگوں کی ریلیف اور بحالی کے کاموں میں شمولیت بہت ضروری ہے اور اسی سے ہی انہیں ازسر نو زندگی کے آغاز کا حوصلہ ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ متاثرین زلزلہ کو عملی طور اب ایک عرصہ تک اپنے ہی علاقوں میں پناہ گزینوں کی سی زندگی گزارنا پڑے گی۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: رنج و غم تلے دبی ہوئی عید 03 November, 2005 | پاکستان مغرب کے معیار دوہرے ہیں: مشرف04 November, 2005 | پاکستان بچوں کوصدرمشرف کا طویل انتظار04 November, 2005 | پاکستان ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان ابھی بھی وقت ہے: ایگلین05 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||