’امدادی ادارے تھک چکے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر ژاں ایگلین کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیمیں اور عطیہ دینے والے افراد اور ادارے اس برس آنے والی قدرتی آفات کی زیادتی کے نتیجے میں تھک چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آفات کی زیادتی کے باوجود ان آفات کا شکار افراد کی مدد کے لیے مزید رقم کی ضرورت ہے۔ ژاں ایگلین کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے زلزلے، گوئٹے مالا میں آنے والے سمندری طوفان اور افریقہ میں قحط کا شکار ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کی امداد کے لیے دی جانے والی رقم ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس طریقے سے ان ایک ساتھ آنے والی آفات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عام عطیات دینے والوں کے علاوہ دنیا کے تیس سے چالیس امیر ممالک، ہزاروں بڑے تجارتی اداروں اور کروڑوں امیر افراد کے بھی سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ژان ایگلین نے کہا کہ پاکستان میں زلزلے کے دو لاکھ متاثرین غذا اور خیموں کی کمی کی وجہ سے اس سال کے جاڑے میں پھنس سکتے ہیں۔ ژان ایگلین کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک زلزلے کے متاثرین کی مدد کرنے میں دوہرے معیار اختیار کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس وقت پیدل اور خچروں کی مدد سے کچھ متاثرین تک پہنچ سکتے ہیں۔ جلد ہی ایسا صرف ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ہی ہوسکے گا اور ہیلی کاپٹر کافی مہنگے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ دو لاکھ افراد برف کی سطح سے اوپر، دو ہزار میٹر سے اونچی پہاڑیوں میں ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس نومبر کے دوران ان سب تک پہنچنے کا منصوبہ ہے۔‘ ’ہمیں اگر مناسب وسائل دستیاب ہوجاتے ہیں تو ہم ان تک پہنچ سکیں گے۔ اگر نہیں، تو ہم برف میں پھنس جائیں گے اور پھر ان کی مدد کرنا کافی مشکل ہو جائے گا، یہ کافی مشکل ہوگا۔ اس لیے ابھی ہماری مدد کریں۔‘
ژان ایگلین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلے جیسے آفات سے نمٹنے کے بارے میں بنیادی سطح پر دنیا کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسے حالات میں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا ہے کہ پاکستان میں آنے والا زلزلہ کتنا تباہ کن تھا۔ جمعہ کے روز پاکستانی صرف جنرل پرویز مشرف نے مغربی ممالک پر امداد دینے میں دوہرے معیار اختیار کرنے کا الزام لگایا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے ایف سولہ لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ ملتوی کردیا ہے۔ |
اسی بارے میں آج عید غیر شرعی ہے:سرحد حکومت03 November, 2005 | پاکستان سیاسی جماعتوں کے عید کارواں03 November, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘04 November, 2005 | پاکستان مغرب کے معیار دوہرے ہیں: مشرف04 November, 2005 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کی ویڈیو04 November, 2005 | پاکستان بچوں کوصدرمشرف کا طویل انتظار04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||