زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے دنیا کے معیارے دہرے ہیں اور اگر زلزلہ سے متاثرہ لوگ مغربی ہوتے تو دنیا نے ان کی کہیں زیادہ امداد کرنی تھی۔ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ کے متاثرین کے لیےدنیا سے مزید امداد کی اپیل کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیےمزید امداد کی ضرورت ہے۔ صدر مشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے دہرے معیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند میں سونامی اور امریکہ میں کٹرینا طوفان آئے تو دنیا کے بعض ملکوں نے دل کھول کر امداد کی لیکن جنوبی ایشیا میں زلزلہ سے متاثرین کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ اگر زلزلہ سے متاثرہونے والے مغربی ملکوں کے باشندے ہوتے تو شاید امداد اس سے کہیں زیادہ دی جاتی جتنی پاکستان میں زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کو دی گئی ہے۔ پاکستان کی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تہتر ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ابھی اکتالیس گاؤں ایسے ہیں جہاں تک زلزلے کو تین ہفتے گزر جانے کے باوجود امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے ابھی تک دو بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’امداد نہ ملی تو بہت سی ہلاکتیں ہوں گی‘26 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان آئندہ دو ہفتے بہت اہم ہیں: مشرف21 October, 2005 | پاکستان ’دنیا ہمارے ساتھ تعاون کرے‘31 October, 2005 | پاکستان ’اطمینان ظاہر نہ کریں، مدد مانگیں‘31 October, 2005 | پاکستان ’ دفاعی بجٹ کم نہیں کرسکتے‘31 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||