BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 01:01 GMT 06:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا ہمارے ساتھ تعاون کرے‘
ہزاروں کی آبادی کے لیے چند سو خیمے ناکافی ہیں: صوبائی وزیر
صوبہ سرحد کے سینئر وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ فوج کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک امداد ی سامان آٹھ دس فیصد لوگوں تک پہنچ پایا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے جو صوبائی وزیرِ خزانہ بھی ہیں کہا کہ زلزلے کے متاثرین کو جو سہولتیں فوری طور پر درکار ہیں انہیں ابھی تک نہیں مل سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا جائے لیکن ’یہ کوشش نامکمل اور ادھوری ہے اور لوگوں کو وہ ریلیف نہیں مل سکا جس کی انہیں ضرورت ہے۔‘

سراج الحق کا کہنا تھا کہ کچھ علاقوں تک امداد کی رسائی ہی نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہاں جانے کے راستے بند ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر سے تمام لوگوں کی ضرورت کا سامان نہیں پھینکا جا سکتا۔ ’ہزاروں کی آبادی کے لیے چند سو خیمے ناکافی ہیں۔‘

انہوں نے اپیل کی کہ دنیا ’ہمارے لیے خیموں کا انتظام کرے اور ہمارے ساتھ تعاون کرے کیونکہ صوبائی اور مرکزی حکومت اس قابل نہیں ہو سکی ہیں کہ ان تمام لوگوں کو پناہ دے سکیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی الائی کے ایم پی سے ان کی بات ہوئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں نوے فیصد سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے بعض متاثرہ علاقوں کی صورتِ حال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ان علاقوں میں بارش اور برفباری سے نتیجہ بے حد خراب ہو گا۔ زلزلے سے جتنا نقصان ہوا ہے اب اتنا ہی نقصان خراب موسم سے ہوگا کیونکہ ابھی تک لاکھوں لوگوں کو پناہ گاہ بھی میسر نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد