BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 00:35 GMT 05:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اطمینان ظاہر نہ کریں، مدد مانگیں‘
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کے لیے ناکافی عالمی امداد پراطمینان کا اظہار کرنے کی بجائے دنیا سے مزید اور مسلسل مدد مانگیں۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے ٹاکنگ پوائینٹ پروگرم میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بی بی سی کے سامعین نے فون اور ای میل کے ذریعے بتایا کہ اگر عالمی برادری کی توجہ پاکستان کے زلزلہ متاثرین سے ہٹ گئی تو ان کی ایک بہت بڑی تعداد کو جن میں بچے اور بوڑھے بالخصوص شامل ہیں شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اس سے قبل وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس پروگرام میں زلزلہ سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد اور بحالی کے لیے دنیا بھر سے ملنے والی امداد پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایک اعلیٰ اہلکار فیاض باقر نے بی بی سی کو بتایا کے ایک اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ کے اسٹنٹ سیکٹری جنرل ڈاکٹر حفیظ پاشا نے پاکستانی وزیرِ اعظم سے کہا کہ وہ متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو کی بات تو کر رہے ہیں لیکن ان کو بچانے اور عارضی قیام فراہم کرنے کا معاملہ بہت اہم ہے۔

کیا حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں؟
 یہ درست ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں مگر یہ بھی درست ہے کہ اب بھی ایک ہزار کے قریب گاؤں ایسے ہیں جہاں جانے کے راستے بند ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے فیاض باقر

فیاض باقر کے مطابق’ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اگرعالمی امداد پر اطمینان ظاہر کرنے کی وجہ سے عالمی برادری کی توجہ کم ہوگئی تو متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے اجلاس میں جس میں ان کے علاوہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِاعظم اور صدر دونوں موجود تھے، اس بات پر غور کیا گیا کہ دنیا نے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک جو مدد فراہم کی ہے اس پر ’کسی طرح کے اطمینان کی ضرورت نہیں بلکہ عالمی برادری سے مدد مانگی جانی چاہیے۔‘

وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے بی بی سی کے پروگرام میں یہ کہا تھا: ’ہم نے جو کام کیا وہ اس لحاظ سے اپنی حیثیت میں تاریخی نوعیت کا کام ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوان پہاڑی علاقوں میں پھیل گئے جہاں کوئی رستہ موجود نہیں تھا، کوئی سڑک موجود نہیں تھی۔ یہ جوان ہر متاثرہ شخص کے لیے اپنی پشت پر خوراک لادے خچروں پر ادویات لیے میدان عمل میں اتر آئے ۔اس وقت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی یہ شکایت نہیں کر رہا ہے کہ وہ خوراک کی کمی کا شکار ہے۔

کئی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں کسی طرح کی کوئی امداد نہیں ملی

فیاض باقر کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں مگر یہ بھی درست ہے کہ اب بھی ایک ہزار کے قریب گاؤں ایسے ہیں جہاں جانے کے راستے بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو جتنے خیمے چاہئیں اتنے خیمے تو دنیا کی مارکیٹ میں بھی نہیں ہیں۔

فیاض باقر نے کہا کہ امدادی کاموں میں فوج کی شمولیت سے صرف انتظامی امور بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن صورتِ حال اتنی خراب ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حالات مکمل قابو میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے لوگوں کی اموات قدرتی آفت کی وجہ سے ہوئی تھیں تو اب انسانی کوتاہیوں سے ہوں گی۔ ’اور حکومت کو یہ بات عالمی سطح پر بتانے کی ضرورت ہے۔‘

66امداد کی لوٹ مار
امداد میں تاخیر کی وجہ سے متاثرین میں غصہ
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
66تصویروں میں
مظفرآباد میں زلزلے سے تباہی اور ہلاکتیں
66کچھ سالم نظر نہیں آتا
سنگھولہ کے ایک متاثرہ شخص کی کہانی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد