BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 November, 2005, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی ہمدردی یا کچھ اور

نواز شریف
نواز شریف کو سعودی عرب میں شاہی مہمان کا درجہ دیا گیا تھا
صدر جنرل پرویز مشرف نے معزول اور جلاوطن وزیراعظم نواز شریف کو سعودی عرب سے باہر جانے کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت دے کر ایک بار پھر یہ امید پیدا کردی ہے کہ ان کی حکومت اور حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے درمیان کچھ افہام و تفہیم ہوسکتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے مطابق عید کے فورا بعد نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کردیا جائے گا اور وہ اور ان کے اہل خانہ پاکستان کے سوا کسی بھی ملک میں جاسکیں گے۔ حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے چیرمین مخدوم امین فہیم نے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔

اس سے پہلے حکومت کا یہ موقف تھا کہ دسمبر سنہ دو ہزار میں کیے گئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت نواز شریف اور ان کے اہل خانہ دس سال تک سعودی عرب میں رہنے کے پابند ہیں۔ یوں نواز شریف اور ان کے خاندان کو دنیا میں کسی بھی جگہ جانے اور رہنے کی اجازت دینا ایک بڑی پیش رفت ہے جسے ان پر عائد پابندیاں خاصی نرم کرنے کے مترادف قرار دیاجاسکتا ہے۔

صدر جنرل مشرف کی جانب سے نواز شریف کو دی جانے والی اس بڑی رعایت کو آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی اہمیت میں اضافہ کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ کے مشکل ادوار میں سعودی عرب کے پاکستان سے تعلقات کی خاص اہمیت رہی ہے۔ جب انیس سو اٹھانوے میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا نے اس پر کڑی اقتصادی پابندیاں لگادی تھیں تو سعودی عرب نے پاکستان کی مالی امداد دے کر اس کی معیشت کو مکمل طور پر ڈوبنے سے محفوظ رکھا تھا۔ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کے نشیب و فراز میں بھی سعودی عرب کی معاونت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت نے پاکستان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے معزول وزیراعظم نواز شریف کو جیل سے نکال کر سعودی عرب بلالیا تھا اور انہیں شاہی مہمان کا درجہ دیا۔ پاکستان میں نواز شریف کو جہاز کے اغوا کے مقدمہ میں سزائے موت دی جاچکی تھی اور یوں لگ رہا تھا کہ فوجی حکومت نواز شریف سے وہی سلوک کرسکتی ہے جو ستر کی دہائی میں جنرل ضیا نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔

اب پانچ سال بعد ملک کی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت نے ایک بار پھر پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اہمیت میں بہت اضافہ کردیا ہے۔ سعودی عرب ان چند اسلامی ملکوں میں ہے جنہوں نے بہت فراخ دلی سے پاکستان کی امدادی سامان اور مالی رقوم سے امداد کی ہے اور طویل عرصہ تک امداد دینے اور رعایتی نرخوں پر تیل دینے کا وعدہ کیا ہے۔ پاکستان کو اب تک مغربی ملکوں خاص طور سے یورپ سے خاطر خواہ نقد امداد نہیں مل سکی۔

ان حالات میں پاکستان کی حکومت کے لیے اپنے مہربان دوست سعودی عرب کا کوئی مطالبہ رد کرنا خاصا دشوار ہے۔

نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کسی ایسی بیماری میں مبتلا بتائے جاتے ہیں جس میں ان کا وزن مسلسل کم ہورہا ہے لیکن سعودی عرب کے ہسپتالوں میں ابتدائی تفتیش سے بیماری کی تشخیص نہیں ہوسکی۔ اس لیے نواز شریف انہیں لندن لے کر جانا چاہتے تھے اور انہیں پاسپورٹ کی ضرورت تھی۔

پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو سعودی عرب چھوڑنے کی یہ اجازت انسانی بنیاد پر دی گئی ہے۔ تاہم ایک سال پہلے نواز شریف کے والد میاں شریف کا انتقال ہوا تو حکومت نے انسانی بنیادوں پر نواز شریف یا خاندان کے کسی فرد کو جنازہ کے ساتھ پاکستان آنے اور تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔

چند ماہ پہلے نواز شریف کی اپنی طبعیت خراب ہوئی تھی تو انہوں نے لندن جانے کے لیے پاسپورٹ مانگا تھا لیکن انہیں پاسپورٹ جاری نہیں کیاگیا تھا۔ اس لیے اب نواز شریف اور ان کے خاندان کو سعودی عرب کی حدود سے باہر پوری دنیا میں کسی بھی جگہ جانے کی اجازت دی گئی ہے اس میں انسانی کے ساتھ ساتھ سیاسی وجوہات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

نواز شریف کے لندن منتقل ہونے سے ان کی پارٹی کو خاصی تقویت مل سکتی ہے جسے مقامی رہنما تواتر سے چھوڑ رہے تھے۔ ان کےلندن میں قیام سے یہ تاثر بھی دور ہوسکتا ہے کہ نواز شریف کا اب ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں جیسا کہ سرکاری پارٹی کے قائدین دعوی کرتے آئے ہیں۔

نواز شریف کی لندن میں سیاسی سرگرمیوں سے ان کے حمایتیوں کو یہ حوصلہ ملے گا کہ وہ بدستور پاکستان کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی ہیں۔ نوازشریف کے سرگرم ہونے سے سرکاری مسلم لیگ کو فوری طور پر اگر کوئی دھچکہ نہ بھی لگے تب بھی بریکیں ضرور لگ سکتی ہیں۔

آصف علی زرداری کی طویل قید سے رہائی کے بعد نواز شریف کو پاسپورٹ کا اجراء جنرل مشرف کی حکومت کی طرف سے حزب اختلاف کو دی جانے والی دوسری بڑی رعایت کہی جاسکتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جنرل مشرف کے نمائندوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو سے ان کے نیویارک کے حالیہ دورہ کے دوران میں ملاقاتیں کی ہیں اور مختلف تجاویز پر بات کی ہے۔

کشمیر اور ہزارہ میں تباہ کن زلزلہ کے بعد صدر جنرل پرویزمشرف کو اس صورتحال سے نپٹنے کے لیےمشکلات کا سامنا ہے۔ یورپی ملکوں نے پاکستان کو امدادی سامان تو دیاہے لیکن نقد رقوم نہیں دیں۔ملک میں بھی اب تک لوگوں نے صدارتی فنڈ میں تقریبا ساڑھے پانچ ارب روپے جمع کرائے ہیں جو زیادہ تر کاروباری اداروں نے دیے ہیں۔

حزب اختلاف نے صدر جنرل مشرف اور ان کی سرکاری پارٹی کی جانب سے زلزلہ کی صورتحال پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم نے امدادی کام کے لیے تمام جماعتوں کی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی بات کی تو سپیکر نے پیپلز پارٹی کو اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کے ارکان ہاؤس سے واک آؤٹ کرگئے۔

اس صورتحال میں صدر جنرل مشرف نے جلاوطن نواز شریف اور ان کے خاندان پر عائد پابندیوں کو نرم کرکے ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے قومی سیاست میں افہام و تفہیم کی فضا بن سکتی ہے۔ مصالحت کے یہ ابتدائی قدم یہیں رک جاتے ہیں یا اور آگے بڑھتے ہیں اس کا پتہ آنے والے دنوں میں چل سکے گا۔

اسی بارے میں
نواز شریف: پاسپورٹ کی اجازت
02 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد