زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی کہتا ہے یہ سستے ہوں، کوئی کہتا ہے انہیں زلزلہ پروف ہونا چاہیے اور کوئی کہتا ہے یہ موسم کی شدت سے بچا سکیں۔ غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سر چھپانے کی جگہ ہی اس وقت متاثرین کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان متاثرین کو آخر کس قسم کے مکانات کی ضرورت ہے؟ اس اہم سوال کا جواب حکومت اور امدادی تنظیمیں دونوں تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان متاثرین کے لیے مختلف قسم کے مکانات کی تعمیر کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کہیں ماڈل ٹاؤن اور کہیں ماڈل ویلج بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن پشاور میں ایک غیرسرکاری تنظیم نے ایسے تیار مکانات کے نمونے سڑک کنارے بنا کر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بقول اس کے حکومت یا مخیر حضرات اگر چاہیں تو متاثرین کے لیے انہیں بھیج سکیں۔ اویر نامی تنظیم نے صدر روڈ پر ایک جھونپڑی نما اور ایک چھوٹے خیمہ نما گھر کے ماڈل نمائش کے لیے رکھے ہیں۔ تنظیم کے فیلڈ کوارڈینیٹر دوران خان بتایا کہ اس نمائش کا مقصد ان افراد کو ایک تصور دینا ہے جو متاثرین کی طویل مدتی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے ایک نمائندے نے پندرہ روز قبل آ کر ماڈل کا جائزہ لیا اور معلومات اکٹھی کی لیکن اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
دوران خان نے بتایا کہ وہ اب تک انیس چھوٹے خیمہ نما مکان مخیر حضرات کی مدد سے متاثرہ علاقوں کو بھیج چکے ہیں۔ ان ٹین اور لاثانی وڈ کے مکانات کی قیمت بتاتے ہوئے دوران خان کا کہنا تھا کہ وہ چھوٹا خیمہ نما مکان بیس ہزار جبکہ بڑا جھونپڑی نما مکان اسی ہزار روپے میں مکمل کر کے دے سکتے ہیں۔ چھوٹے خیمے میں تو مختصر سی جگہ ہے لیکن بڑا مکان ایک بڑے کمرے، باورچی خانے اور بیت الخلا پر مشتمل ہے۔ دوران خان کا کہنا تھا کہ وہ اس مکان کو پلاسٹر کروا کے، باتھ روم میں ٹائلیں اور باورچی خانے میں جی ٹی زیڈ کے منظور شدہ چولہوں کے ساتھ مہیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس مکان کو آگ نہیں لگ سکتی۔ ان مکانات کی عمر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر مناسب اور ضروری احتیاط کی جائے تو کافی طویل عرصے تک چل سکتے ہیں۔ یہ تو ایک غیرسرکاری تنظیم کی پیشکش ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو ایک آئیڈیا دینا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت کو آج کل کئی بڑی تنظیمیں بریفنگ دے رہی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان لاکھوں متاثرین کے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ | اسی بارے میں ’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘06 November, 2005 | پاکستان ’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ 05 November, 2005 | پاکستان امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ05 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟05 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||