امداد سے زیادہ دینے والوں کی تشہیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی تنظیموں کے درمیان صحت مند مقابلے کی فضا دیکھی جا رہی ہے لیکن کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بعض تنظیمیں فلاحی سرگرمیوں سے زیادہ اپنی تشہیر پر بھی بہت توجہ دے رہی ہیں۔ صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں تو پاکستانی فوج، سیاسی جماعتوں اور مختلف امدادی تنظیموں کے جگہ جگہ کیمپس اور خیمہ بستیاں قائم دیکھائی دیتی ہیں۔ ہر تنظیم نے بڑے بڑے بینرز لگا رکھے ہیں جن کا ایک مقصد تو متاثرین کو معلومات دینا ہے کہ یہاں سے انہیں کیا مدد مل سکتی ہے تو دوسری جانب ان کا مقصد اپنی تشہیر بھی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جو ٹرک امدادی سامان لے کر آیا ساتھ میں بھیجوانے والے کا بڑا سا بینر لگا ضرور آیا۔ اس تشہیر کا زیادہ احساس سیاسی جماعتوں کے کیمپس میں ہوتا ہے جہاں بڑے بڑے جماعتی پرچم بھی آویزاں نظر آتے ہیں۔ اس تشہیر کا دفاع ایک غیرسرکاری تنظیم الرشید ٹرسٹ کے ڈاکٹر انجم نے کرتے ہوئے کہا کہ باجماعت نماز کا مقصد بھی ایک طرح سے لوگوں کو دیکھا کر اچھے عمل کی ترغیب دینا ہے تو اگر تشہیر کا مقصد نیک ہے تو پھر اس میں کوئی ہرج نہیں۔ امدادی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک عاد ناخوشگوار واقعے کے علاوہ مجموعی طور پر تعلقات خوشگوار ہی رہے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی غیرمتوقع طور پر زلزلے سے متاثرہ اکثر علاقوں میں دیکھائی دی۔ جماعتی پرچم اور بینرز آویزاں کرنے پر بظاہر اس نے خصوصی توجہ دی۔ ایم اکیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی طالب امام کو اسی طرح کے بٹ گرام میں ایک کیمپ میں مصروف دیکھا تو اس موضوع پر ان سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم یہ بھی بتانا چاہتی ہے کہ یہ ان کا حلقہ انتخاب نہیں ہے اور نہ اس علاقے سے ان کا کوئی تعلق ہے لیکن صرف انسانی خدمت کے ناطے وہ یہاں آئے ہیں۔ ’ہم لوگوں کو یہ سبق بھی سیکھانا چاہتے ہیں کہ سیاست کے بغیر بھی خدمت ہوسکتی ہے۔ یہ پرچم ہم اسی لئے لگاتے ہیں کہ انہیں یاد رہے کہ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو بغیر کسی غرض کہ خدمت کے لئے آتے ہیں۔‘ طالب امام نے مزید وضاحت کی کہ ان پر بڑے الزامات لگتے ہیں کہ ان کی جماعت لسانی ہے لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ ’وقت اب ثابت کر رہا ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں سواے اس کے کہ خدائی خدمت گار۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے پٹھان بڑی تعداد میں کراچی میں بستے ہیں لہذا ان کے دل جیتنے کے لئے ایم کیو ایم اس علاقے میں پہلی مرتبہ آئی ہے۔ بعض سرکاری اہلکاروں کے متاثرہ علاقوں کے سرکاری دوروں نے بھی بعض اوقات متاثرین کے مسائل اور تکلیف میں اضافہ کیا کمی نہیں۔ ادھر زلزلے کے بعد کئی مذہبی تنظیموں نے جیسے کہ آئی ایس او ہے بینرز کے ذریعے اصلاح معاشرہ کی کوشش بھی کی ہے۔ اکثر متاثرہ علاقوں میں ان کے بینرز یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ قدرتی آفت لوگوں میں بڑھتے ہوئے ’زنا اور سود کی وجہ‘ سے آئی ہے۔ کہتے ہیں امداد وہی بہتر جس میں ایک ہاتھ سے دیں اور دوسرے کو خبر نہ ہو۔ اس پر اس زلزلے کے بعد کتنوں نے عمل کیا معلوم کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ | اسی بارے میں تعمیرِ نو اور نئے شہر17 November, 2005 | منظر نامہ دنیا فراخ دلی کا مظاہرہ کرے: عنان17 November, 2005 | پاکستان جستی چادروں کی بلیک 16 November, 2005 | پاکستان مانسہرہ میں قیمتیں تیز ہوگئیں16 November, 2005 | پاکستان آپ کی صحافت: ’نسل انسانیت ایک ہے‘16 November, 2005 | Blog زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان تصویر کے دو رخ: عنوان تجویز کریں14 November, 2005 | Captions ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||