BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 November, 2005, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانسہرہ میں قیمتیں تیز ہوگئیں

کنٹرول لائن پر امداد منتقل کی جارہی ہے
کنٹرول لائن پر امداد کی منتقلی
صوبہ سرحد کے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع مانسہرہ میں مکانات کی قلت اور امدادی تنظیموں کی بڑی تعداد میں آمد سے کرایوں اور اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

تاہم حکام اسے آزاد معیشت کا شاخسانہ قرار دے کر اپنے آپ کو بے بس قرار دے رہے ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں خصوصا مانسہرہ شہر میں آٹھ اکتوبر کے بعد سے ہوٹلوں اور کرائے کے مکانات ملنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوگیا ہے۔ بڑی تعداد میں امدادی کارکنوں، سرکاری اہلکاروں اور ذرائع ابلاغ کی موجودگی کی وجہ سے رہائش کی جگہ ملنا مشکل ہے۔

اس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ایبٹ آباد کو اپنا بیس بنانا پڑا جہاں سے وہ روزانہ صبح متاثرہ علاقے روانہ ہوجاتے اور رات گئے واپس آتے۔

کرایوں میں اضافے کے علاوہ روز مرا کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ ساتھ میں اشیاء ضرورت کی بازار میں قلت بھی بڑا مسئلہ ثابت ہوئی۔

بٹ گرام میں یونیسف کے ڈاکٹر عبدالجمیل اپنی مشکل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بازار میں ان کی ضرورت کی اشیاء کم پڑ گئی ہیں۔ ’ہمیں ایک چھوٹی سے چیز کے لیے راولپنڈی اور لاہور کئی کئی فون کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے پشاور میں ایک چیز کے لئے آڈر دیا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم میں وہ یہ پورا کر سکیں گے یا نہیں۔‘

مکانات کے کرائے چار گنا بڑھے
 مانسہرہ میں مکانات کے کرائے تین سے چار گنا بڑھے ہیں۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ کئی لوگ اپنے مکانات مہنگے داموں چڑھا کر خود سستی جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں۔

مانسہرہ کے ایک بڑے ہوٹل کے منیجر شکیل اعوان کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں نے اب آگے کے علاقوں کا رخ کر لیا ہے اور صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ ’ابتدائی ایام کے برعکس امدادی تنظیموں نے اب بٹگرام اور بالاکوٹ میں دفاتر قائم کر لئے ہیں۔‘

انہوں نے تسلیم کیا کہ بین القوامی غیرسرکاری تنظیموں نے ہوٹلوں کی جگہ نجی مکانات کرائے پر لے لیے ہیں۔ ’اس میں لوٹ مار کا کوئی عنصر نہیں انہیں اس وقت اچھی جگہ کی ضرورت ہے۔‘

تاہم مانسہرہ کے رابطہ افسر شکیل قادر خان کا کہنا ہے کہ وہ امدادی کاموں سے قدرے فراغت ملنے پر انتظامیی امور پر اب توجہ دینا شروع کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن میں انہوں نے کارروائی کرتے ہوئے ستر دکانداروں کو مہنگے داموں اشیاء فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

مکانات کے کرایوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیمانڈ اور سپلائی کا مسئلہ ہے۔ شکیل قادر نے تسلیم کیا کہ امدادی تنظیموں کو خیمہ بستیوں میں ہونا چاہیے لیکن وہ انہیں ابھی اس پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ’ہم فی الحال انہیں سہولت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہماری مدد کر سکیں۔‘

اطلاعات کے مطابق مانسہرہ میں مکانات کے کرائے تین سے چار گنا بڑھے ہیں۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ کئی لوگ اپنے مکانات مہنگے داموں چڑھا کر خود سستی جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں۔

مانسہرہ شہر کی آبادی زلزلے سے تو اتنی متاثر نہیں ہوئی لیکن اس کے معاشی آفٹرشاکس اسے ضرور بری طرح سے ہلا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
امداد کی تقسیم کے مسائل
11 November, 2005 | پاکستان
ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق
11 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد